Al-Risala · August 1993 · page 72

حق کے مطابق

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۷۲

حق کے مطابق

اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے۔ جب آدمی صرف اپنے حق کا طالب ہو تو پورا نظام عالم اس کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے، اور جب وہ اپنے حق سے زیادہ کا طالب بن جائے تو نظام عالم اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا آدمی کامیاب ہوتا ہے، اور دوسرا آدمی ناکام۔

جب آپ اپنے حق کے بقدر چاہتے ہیں تو آپ وہ چیز چاہ رہے ہوتے ہیں جو واقعہ آپ کی ہے، جو ازروئے انصاف آپ ہی کو ملنا چاہئے۔ مگر جب آپ اپنے واقعی حق سے زیادہ چاہیں تو گویا آپ ایسی چیز چاہ رہے ہیں جو ازروئے انصاف آپ کی چیز نہیں ہے ، بلکہ دوسرے کی چیز ہے۔ پھر دوسرا شخص کیوں آپ کو اپنی چیز دینے پر راضی ہو جائے گا۔

جب بھی آدمی اپنے حق سے زیادہ چاہے تو فوراً اس کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرے لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب کش مکش اور ضد اور مزاحمت وجود میں آتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اصل سے زیادہ کی طلب میں اصل کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔

اپنے حق سے زیادہ کی طلب کرتے ہی یہ ہوتا ہے کہ آدمی تضاد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے حصہ کی چیز لینے کے لئے ایک دلیل دیتا ہے ، اور دوسرے کے حصہ کی چیز پر قبضہ کرنے کے لئے دوسری دلیل استعمال کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے مقدمہ کو خود ہی کمزور کر لیتا ہے۔ وہ اپنی نفی آپ کر دیتا ہے۔ دو قسم کی دلیلوں سے وہ ثابت کرتا ہے کہ پہلی چیز اگر اس کی ہے تو دوسری چیز اس کی نہیں ہے، اور اگر دوسری چیز اس کی ہے تو پہلی چیز اس کی نہیں ہو سکتی۔

ایسے آدمی کے اوپر وہ مثال صادق آتی ہے کہ جو شخص دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑے وہ ایک کو بھی نہیں پکڑ سکتا۔ اسی طرح جو شخص اپنے اصل حق کے ساتھ مزید کا طالب بنے ، وہ اصل کو بھی کھو دے گا اور اسی کے ساتھ مزید کو بھی۔

پوری انسانی تاریخ ، ایک اعتبار سے ، اسی حقیقت کا عملی اظہار ہے۔

۱۲ رسالہ اگست ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page