بہترین سلوک
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴
بہترین سلوک
برے سلوک کا بہترین جواب اچھا سلوک ہے۔ جہالت کا بہترین حل اس کو نظر انداز کر دینا ہے۔ اسی روش کا نام اعلیٰ اخلاق ہے۔ اور اعلیٰ اخلاق سے زیادہ بہتر اور کارگر چیز اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
ایک شخص آپ کے ساتھ برا سلوک کرے، اس کے جواب میں آپ بھی اس کے ساتھ برا سلوک کریں تو دونوں کا معاملہ برابر ہو گیا۔ ایسی حالت میں دوسرا شخص اپنے آپ کو برا نہیں سمجھے گا۔ وہ صرف یہ کہے گا کہ آپ کو برا سمجھنے لگے ۔ یا کم از کم یہ کہ جیسا میں ہوں، ویسا ہی میرا حریف بھی ہے ۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
مگر جب آپ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کریں تو فوراً اس کی ساری توجہ خود اپنی طرف لگ جاتی ہے۔ اب آپ اس کو اس کے ضمیر کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں جو اس سے یہ کہنا شروع کرتا ہے کہ صرف تم برے ہو ، اس کی دوطرفہ سوچ اب یک طرفہ بن جاتی ہے ۔
برا کرنے والے کے ساتھ برا کرنا، اس کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ اپنی برائی کو بھول کر صرف دوسرے کی برائی کو یاد رکھے ۔ اس کے برعکس برا کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اس سے یہ موقع چھین لینا ہے کہ وہ دوسرے کو برا بتا کر مطمئن ہو سکے۔ اب وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ صرف اپنے آپ کو برا سمجھے ۔
برائی کرنے والے کے ساتھ، برائی کرنا اس کو زندگی دینا ہے ۔ اور برائی کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یا کم از کم نظر انداز کر دینا اس کو خود اسی کے ہاتھوں ہلاک کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کی اس سے بڑی کوئی اور سزا نہیں ہو سکتی کہ خود اس کی ضمیر کی عدالت سے اس کے خلاف فیصلہ دلایا جائے ، اور برائی کے جواب میں اچھائی کرنا کسی کو اسی قسم کی سزا دینا ہے۔ اگر آپ کو غصہ اتارنا ہے تو برائی کرنے والے کے ساتھ بر ائی کیجئے۔ ۔ اور اگر آپ برائی کرنے والے کو سزا دینا چاہتے ہیں تو اس کی برائی کے جواب میں اس کے ساتھ اچھائی کیجئے۔ ۔ ایسے آدمی کی اس سے زیادہ سخت سزا اور کوئی نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues