Al-Risala · August 1993 · page 17

حکمت دین

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷

حکمت دین

لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیہم اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ ان میں انہیں رسولاً من انفسہم یتلوا علیہم آیاتہ میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں سناتا ويزكيهم ويعلمهم الكتاب ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب والحكمة ـ اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

یہ آیت قرآن میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو جگہ آئی ہے (البقرہ ۱۲۹، آل عمران ۱۶۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کی امت کو جو ہدایت ملی ، اس کے خاص اجزاء چار تھے ـــــ تلاوت آیات ، تزکیہ ، تعلیم کتاب اور تعلیم حکمت ۔ تلاوت آیات سے مراد نازل شدہ قرآن کو پڑھ کر سنانا ہے۔ اپنی زندگی میں آپ نے اس کو براہ راست پڑھ کر سنایا۔ اب مطبوعہ مصحف کی صورت میں آپ اس کو بالواسطہ طور پر ہمیں سنا رہے ہیں۔ تزکیہ سے مراد تطہیر قلب ہے۔ آپ کی یہ فیض رسانی اب جمع شدہ احادیث کی صورت میں ہم کو پہنچ رہی ہے۔ تعلیم کتاب سے مراد قرآن کی تفہیم ہے۔ آپ کا یہ کار رسالت ہم کو قرآنی روایات کے ذریعہ مل رہا ہے۔

آپ کے پیغمبرانہ کام کا ایک جزو تعلیم حکمت ہے۔ اس سے مراد آدمی کو وہ طرز فکر یاوہ نقطۂ نظر دینا ہے جس کی روشنی میں وہ موجودہ دنیا میں اپنے خدا پرستانہ رویہ کو متعین کر سکے : (الحكمة) المعرفة بالدين والفقه حکمت سے مراد دین کی معرفت اور تاویل احکام فى التاويل والفہم الذي هو سبحہ ونور کی سمجھ ہے اور وہ فہم جو اس کی طبیعت ہے اور من الله تعالى قاله مالك ۔ ۔۔ ويعلم اللہ کی طرف سے روشنی ہے۔ یہ امام مالک کا قول طريق النظر بما يلقيه الله الیہ من ہے۔ اور یہ کہ پیغمبر وہ طرز نظر سکھاتا ہے جو اللہ وحيه (تفسير القرطبي ۱۳۱/۲) اس کو بذریعہ وحی بتاتا ہے۔

حکمت سے مراد دینی روح پر مبنی طرز فکر ہے۔ اس سے مراد وہ صحیح سوچ ہے جو ہر معاملہ میں آدمی کو خود بینی رخ سے ہٹا کر دینی رخ کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کو ایک لفظ میں دینی بصیرت بھی کہہ سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page