Al-Risala · August 1993 · page 16

مستقبل کا مسئلہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶

مستقبل کا مسئلہ

قل لا املك لنفسی نفعا وضر ا الا اے پیغمبر کہہ دو کہ میں اپنے لیے نہ نفع کا مالک ما شاء الله ولو كنت اعلم الغيب ہوں اور نہ نقصان کا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر لا استكثرت من الخير وما میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے حاصل مسني السوء (الاعراف ۱۸۸) کر لیتا اور مجھ کو کوئی نقصان نہ پہنچتا۔

اس آیت کا ایک ابتدائی مفہوم ہے جو اس کے سیاق و سباق سے متعین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں ایک کلی اصول بھی بتا دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں فائدہ اور نقصان کا تعلق تمام تر مستقبل بینی سے ہے۔ جو آدمی حال میں مستقبل کو دیکھے، جو آج میں کل کو پالے وہی آدمی یہاں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔ اس کے برعکس جو شخص مستقبل بینی کے اس امتحان میں پورا نہ اترے وہ یہاں کوئی بڑی کامیابی بھی حاصل نہیں کر سکتا۔

غور کیجئے تو یہ کلیہ تمام امور کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تجارت کا معاملہ ہو یا سیاست کا، علمی ترقی کا میدان ہو یا کسی اور میدان میں آگے بڑھنے کا، ہر جگہ مستقبل کی رعایت کرنے والا فائدہ اٹھاتا ہے، اور جو شخص مستقبل کی رعایت نہ کر سکے وہ گھاٹے میں رہتا ہے۔ موجودہ دنیا میں تمام نقصانات آدمی کی اسی کوتاہی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

کوئی آدمی مستقبل (یا غیب) کو نہیں جانتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں ہر آدمی بار بار نقصان اٹھاتا ہے۔ آدمی کو یہ تجربہ اس لیے کرایا جاتا ہے کہ آدمی آخرت کی اہمیت کو محسوس کر سکے۔ آدمی جب ایک نقصان سے دوچار ہو تو وہ مستقبل کی اہمیت کو سمجھے۔ وہ سوچے کہ زندگی کی کامیابی کا راز ”مستقبل“ کی رعایت میں چھپا ہوا ہے، اس دنیا میں بھی اور بعد کو آنے والی دنیا میں بھی۔

اللہ تعالی نے دنیا کا یہ نظام اس لیے بنایا ہے تاکہ آخرت کے بارہ میں آدمی کے احساس کو جگایا جائے۔ تاکہ آدمی مستقبل کی رعایت کے بارہ میں نہایت حساس ہو جائے۔ یہ عقیدہ آدمی کو حقیقت پسندانہ زندگی گزارنے کا سبق دیتا ہے۔

۱۶ انصار اگست ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page