Al-Risala · August 1993 · page 20

از سر نو ایمان

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰

از سر نو ایمان

قرآن (البقره (۶۲) میں بتایا گیا ہے کہ بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صائبین جو ایمان لایا ان میں سے اللہ پر اور روز قیامت پر اور کام کیے نیک، تو ان کے لیے ہے ان کا ثواب ان کے رب کے پاس، اور نہیں ان پر کچھ خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے (ترجمہ مولانا محمود حسن صاحب)

اس آیت میں مسلمان (الذین آمنوا) سے کون لوگ مراد ہیں، اس کی وضاحت کے لیے تفسیر قرطبی (۴۴۲/۱) کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے :

قال سفيان المراد المنافقون - كأنه سفیان ثوری نے کہا کہ اس سے مراد منافق ہیں۔ گویا قال، الذین آمنوا في ظاهر امرهم کہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے ظاہری معاملہ میں ایمان فلذلك قرنهم باليهود والنصاری لانے والے بنے۔ اسی لیے ان کو یہود اور نصاریٰ والصابئين ۔ ثم بيّن حكم من اور صابئین کے ساتھ شامل کیا۔ پھر سب میں سے آمن بالله واليوم الآخر من اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو واقعہ اللہ پر اور جميعهم - آخرت کے دن پر ایمان لایا۔

اس آیت میں دراصل پیغمبروں کی بعد کی امتوں کا ذکر ہے۔ یعنی وہ لوگ جو بعد کے زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں اور نسلی تعلق کی بنا پر پیغمبر کی امت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ خواہ دوسرے پیغمبروں کی امت سے اپنے کو منسوب کیے ہوئے ہوں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے تعلق رکھتے ہوں، سب کا معاملہ آخرت کے اعتبار سے ایک ہے۔ یعنی محض نسلی یا تاریخی تعلق کی بناپر ان میں سے کوئی بھی نجات پانے والا نہیں۔ ان میں سے ہر شخص کو دوبارہ مومن باللہ بننا ہے۔ اس کو دوبارہ آخرت پر یقین لانا اور عمل صالح کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اس کے لیے جنت کے دروازے کھولے جائیں۔

مسلمان کو اپنے تقلیدی ایمان کو شعوری ایمان بنانا ہے۔ دین خداوندی کی صداقت کو اسے از سر نو دریافت کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اس کو مطلوب اہل ایمان کی فہرست میں شمار کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page