Al-Risala · August 1993 · page 21

نیا دور

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱

نیا دور

ٹائمس آف انڈیا (۲ جنوری ۱۹۹۲) میں صفحہ ۱۰ پر نقطہ نظر (Viewpoint) کے کالم کے تحت مسٹر چندرابی کھنڈوری کی یاد داشت چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے : (The Muslim Role) مسٹر کھنڈوری لکھتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں انڈیا کی آزادی کے وقت مولانا ابوالکلام آزاد کو دیکھا تھا، انھیں یاد ہوگا کہ اس وقت وہ بٹوارہ کے المیہ پر بری طرح رو رہے تھے : Those who watched Maulana Azad on the eve of independence remember him weeping bitterly at the tragedy of partition. (Chandra B. Khanduri) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ملک کے بٹوارہ کا کتنا زیادہ غم تھا۔ وہ یہ یقین کرنے میں حق بجانب تھے کہ بٹوارہ ملک کے لیے زہر ہے۔ اس کے نتیجہ میں آزادی ایک نئے قسم کی بربادی کے ہم معنی بن جائے گی۔

اس معاملہ میں واقعہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ ۱۹۱۹۱۹۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں مولانا ابوالکلام آزاد کی بات نہیں چلی۔ مسلمانوں کے درمیان مسٹر محمد علی جناح نے سب سے بڑے نے قائد کی حیثیت حاصل کرلی۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مولانا آزاد کے نقشہ کے خلاف انڈیا دو حصوں میں بٹ گیا۔ مگر اس واقعہ کا ایک اور پہلو بھی تھا۔ وہ یہ کہ ۴۷ کے بعد ملک میں جو حالات پیدا ہوئے اس نے اچانک مولانا ابوالکلام آزاد کو مسلمانوں کے درمیان رہنما نمبر ایک کی حیثیت دے دی۔ ملک کے تمام مسلمان اب ان کی طرف دیکھنے لگے کہ نئے ہندوستان میں وہ انھیں کوئی راہ دکھائیں۔ مگر ۴۷ سے پہلے کے دور میں فعال قائد بننے والے مولانا آزاد، ۴۷ کے بعد کے دور میں ایک غیر فعال قائد بن کر رہ گئے۔ انھوں نے مسلمانانِ ہند کو نئے حالات کے اعتبار سے کوئی واضح رہنمائی نہ دی۔ حالانکہ ملک کی تقسیم کے بعد مولانا آزاد گیارہ سال تک زندہ رہے۔ اس طرح انھیں کام کرنے کا طویل وقفہ حاصل ہوا۔

اسی سے ملتا جلتا معاملہ مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کا ہے۔ مولانا مدنی آزادی کے بعد دس سال تک زندہ رہے۔ مولانا سیوہاروی کو آزادی کے بعد پندرہ سال تک جینے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page