Al-Risala · August 1993 · page 29

دورِ انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹

تحریک اٹھی۔ اس کا مقصد جاپانیوں کے قبل از جنگ ذہن کو بدل کر ان ہیں۔ ن تعمیری ذہن پیدا کرنا تھا۔ آج ہمیں بھی اسی قسم کے ایک عمل معکوس کی ضرورت ہے۔ اور خدا کا شکر ہے کہ یہ عمل معکوس اب انڈیا کے ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں کے اندر شروع ہو چکا ہے۔

اب ہمیں ایک طرف ہندوستانی مسلمانوں کو بتانا ہے کہ تم اور ہندو دو قوم نہیں ہو بلکہ ایک قوم ہو۔ ہمیں ان کے اندر نفرت کے بجائے محبت کی ہوائیں چلنا ہے۔ ہمیں مسلمانوں کو بتانا ہے کہ تم کو ٹکر اؤ کے بجائے ایڈ جسٹمنٹ کی پالیسی کو اختیار کرنا چاہئے۔ ہمیں ان کے اندر یہ شعور ابھارنا ہے کہ نئے انڈیا میں ان کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کسی دوسرے کا۔ البتہ یہ حصہ ان کو میرٹ کی بنیاد پر ملے گا نہ کہ رزر ویشن اور مطالبہ کی بنیاد پر۔ ہمیں مسلمانوں میں نئی تعمیری صحافت کو وجود میں لانا ہے، ایسی صحافت جو منصفانہ واقعہ نگاری پر مبنی ہو، جو مسائل سے زیادہ مواقع کو نمایاں کرنے میں دلچسپی رکھتی ہو۔ اسی قسم کی تحریک ہندوؤں کے درمیان چلانا بھی ضروری ہے۔ ہندو بھائیوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ جناحی طرز فکر کو چھوڑ دیں، اور اپنے ماضی والے فکر کو دوبارہ اختیار کر لیں۔ وہ جناح کے مذہب کے بجائے خود اپنی روایات والے اس مذہب پر آجائیں جس کا اہم ترین پہلو تعدد میں وحدت کو دیکھنا ہے۔ مسٹر چندرا بی کھنڈوری نے اپنا مذکورہ مضمون ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ ضرورت ہے کہ ہم اپنے مشترک کلچر کے مطابق اپنی روایتی عقلیت اور رواداری کی طرف لوٹ آئیں : In consonance with our composite culture, we need, therefore, to return to our traditional rationality and tolerance. یہ الفاظ کسی ایک شخص کے الفاظ نہیں ہیں۔ وہ کروڑوں ہندوؤں کے دل کی ترجمانی میں اس کا ایک اظہار وہ ہے جو ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کے بعد بار بار پرنٹ میڈیا یا اور الیکٹرانک میڈیا میں ہمارے سامنے آتا رہا ہے۔

یہی بھارت کا ضمیر ہے۔ بھارت کا ضمیر جو ۶ دسمبر سے پہلے عارضی طور پر سو گیا تھا، اب وہ پوری طاقت کے ساتھ جاگ اٹھا ہے۔ اور ضمیر جب جاگ اٹھے تو وہ اپنی تکمیل سے پہلے دوبارہ کبھی نہیں سوتا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ ضمیر کی آواز ہر دوسری آواز پر غالب آتی ہے۔ اور انڈیا کا معاملہ بلا شبہ فطرت کے اس عالمی قانون سے مستثنی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page