دورِ انقلاب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۳۰
مجھے یقین ہے کہ انڈیا میں اب نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے، فی الحال یہ آغاز زیادہ تر ایک تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں ہے۔ مگر دھیرے دھیرے انشاء اللہ وہ شعور کا درجہ اختیار کرلے گا۔ اور جب وہ شعور کے درجے میں پہنچے گا تو اس کا عمل بھی زیادہ تیز اور مؤثر ہو جائے گا۔ اس واقعہ کو بہر حال ظہور میں آنا ہے۔ اس کے اور ہمارے درمیان ضروری مدت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز حائل نہیں۔
انسانی زندگی میں جب بھی کوئی نیا دور آتا ہے تو وہ ہمیشہ اس طرح آتا ہے کہ اس میں پچاس فی صد حصہ تاریخی عوامل ادا کرتے ہیں، اور بقیہ پچاس فی صد حصہ خود اس انسانی گروہ کو ادا کرنا ہوتا ہے جس کے درمیان وہ انقلاب آرہا ہو ۔
آج ہم اسی امتحانی دور میں ہیں۔ اس وقت ہمارا کام یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ابھرنے والے تاریخی عوامل کو پہچانیں اور پھر حکمت اور دانش مندی کے ساتھ انھیں اپنے حق میں استعمال کریں۔ اگر ہم نے اپنے حصہ کا یہ ۵۰ فی صد کام درست طور پر انجام دے دیا تو اس کے بعد مطلوبہ نئے دور کا آنا اتنا ہی یقینی ہو جائے گا جتنا گردش زمین کے قانون کے تحت تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نمودار ہونا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues