سفرنامہ ۲
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۲
سفرنامہ ۲
ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ اس وقت ہم مکى دور میں ہیں اور ہم مکی دو رمیں اترنے والے احکام کے مخاطب ہیں۔ آپ کس بنیاد پر ایسا کہتے ہیں جب کہ اب مکمل قرآن اتر چکا ہے اور وہ آج مکمل صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
میں نے کہا کہ یہ بات قرآن کے اصول تکلیف (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا) سے نکلتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان یا کسی جماعت کے اوپر قرآن کے احکام کا انطباق باعتبار وسع ہے نہ کہ باعتبار تنزیل۔ حج اور زکوۃ کے احکام اتر چکے ہیں۔ مگر ان احکام کی فرضیت صرف ان افراد کے اوپر ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔ یہی معاملہ تمام احکام کا ہے۔ آدمی جس حکم کی تعمیل کی استطاعت رکھتا ہو اس کا وہ مکلف بن جائے گا۔ اور جس حکم کی وہ استطاعت نہ رکھتا ہو اس کا وہ مکلف نہیں بنے گا۔ ۷ نومبر کو مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد پونہ کی مکہ مسجد میں عمومی خطاب ہوا۔ موضوع رکھا گیا تھا: حالات حاضرہ اور مسلمان۔ میں نے کہا کہ اس عنوان کا میرے نزدیک دو پہلو ہے۔ ایک، مشکلات حاضرہ اور مسلمان۔ اور دوسرا، امکانات حاضرہ اور مسلمان۔ اس کے بعد تفصیل سے میں نے بتایا کہ بلاشبہ ہمارے لیے کچھ مشکلات ہیں۔ مگر اس قسم کی مشکلات ہر سماج میں اور ہر ملک میں ہمیشہ رہتی ہیں۔ مزید مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ امکانات کی مقدار مشکلات کی مقدار سے ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے اور آج بھی بہت زیادہ ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔
ایک مسجد میں نماز پڑھی۔ امام صاحب نے نماز پڑھانے پر اصرار کیا۔ مگر میں نے نماز نہیں پڑھائی۔ بلکہ امام صاحب کو پکڑ کر انھیں آگے کر دیا۔ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ میرے ساتھ ایسا بار بار پیش آتا ہے۔ جب بھی میں کہیں جاتا ہوں تو جس مسجد میں نماز کے لیے داخل ہوتا ہوں اس کے امام صاحب نماز پڑھانے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ درست نہیں۔ زیادہ درست طریقہ یہ ہے کہ مقامى امام ہی نماز پڑھائے۔ حدیث کی مشہور کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب الصلاۃ کے تحت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues