Al-Risala · August 1993 · page 1

سفرنامہ ۲

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۱

نہیں، بلکہ در حقیقت جن سنگھی ذہنیت اور انگریزوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے: بمبئی کے اردو اخبار کے مذکورہ ادار یہ کا عنوان تھا: "مسلمان کیا کریں" اس کو دکھاتے ہوئے ایک صاحب سے میں نے کہا کہ جو مسلم دانشور پچاس برس میں یہ بھی طے نہ کر سکے کہ پاکستان کس نے بنوایا وہ "مسلمان کیا کریں" کے بارے میں قوم کو کیسے کوئی درست رہنمائی دے سکتے ہیں۔ بمبئی کے ٹائِمْس آف انڈیا (۳ نومبر ۱۹۹۱) میں ایک جرنلسٹ راج دیپ سردیسائی کے قلم سے ایک دلچسپ مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا۔ طاقتور تلوار، اس سے بھی زیادہ طاقتور قلم: Mighty sword, mightier pen. اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ شیو سینا نے ایک عرصہ تک تلوار (تشدد) کے وسیلہ پر اعتماد کیا۔ مگر یہ ذریعہ اس کے لئے زیادہ مفید نہ ہوسکا۔ چنانچہ اب خود شیو سینا کے اپنے اخبار مارننگ نے لکھا ہے کہ ہمیں پریس کی طاقت کو استعمال کرنا چاہئے۔ شیو سینا کے آرگن نے اردو شاعر کے شعر کو کسی قدر فرق کے ساتھ نقل کیا ہے کہ کیمپو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، گر توپ مقابل ہے تو اخبار نکالو: Do not remove a sword, When even a cannon becomes useless, bring out a newspaper. (p.13)

۱۰ نومبر کو ۱۰ بجے بمبئی میں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اس کا انتظام پائیکر ہال میں کیا گیا اور اس کا عنوان تھا" محمد ﷺ۔ پیغمبر انقلاب۔ اس موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ تقریر ہوئی۔ اس کے بعد آدھ گھنٹہ تک سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ حاضرین میں مسلم اور غیر مسلم دونوں موجود تھے۔ آج کا دن کسی سنجیدہ اجتماع کے لئے بہت غیر موزوں تھا۔ کیوں کہ آج اتوار تھا اور آج ہی کھیل کا میچ تھا اور جب اس قسم کا میچ ہو تو تمام لوگ ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مگر وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ جناب ہارون رشید (چیف ایڈیٹر بلٹنر) نے کہا کہ یہ منظر دیکھ کر مجھے تعجب انگیز خوشی ہو رہی ہے۔ اس پروگرام کی پروفیشنل انداز میں معیاری ویڈیو ریکا رڈنگ کرائی گئی۔ اس کا ویڈیو اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (بمبئی) کے پاس موجود ہے۔

۱۰ نومبر کی سہ پہر کو پالی کی مسجد میں نماز مغرب کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریبآ آدھ گھنٹہ کی ایک تقریر ہوئی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جو حالات ہیں وہ بہت امید

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page