Al-Risala · August 1993 · page 32

سفرنامہ ۲

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲

افزا ہیں۔ اس میں ہمارے لیے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ اس میں میں نے قرآن و حدیث سے اور تاریخ کی مثالوں سے واضح کیا۔

۷ نومبر کی صبح کو میں بمبئی میں تھا۔ یہاں ڈاکٹر عبدالکریم نامی صاحب کے مکان پر قیام رہا۔ ان کے مکان کے قریب جیسین اپارٹ منٹس کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ یہاں فجر کی نماز کے بعد مختصر طور پر نماز سے متعلق ایک حدیث کی تشریح بیان کی ۔ مولانا ممتاز احمد قاسمی اس مسجد کے امام ہیں۔ ۸ نومبر کو صبح ۱۱ بجے آل انڈیا ریڈیو بمبئی نے میری ایک ٹاک کو ریکارڈ کیا۔ یہ ٹاک چند دن کے بعد براڈکاسٹ کی جائے گی۔ اس کا عنوان تھا۔ قومی یک جہتی کا مسئلہ۔ یہ تقریر انشاء اللہ آئندہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

آج جمعہ کا دن تھا۔ بمبئی میں باندرہ کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ پہلے سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد مسجد میں عبادت کے موضوع پر میری تقریر ہوگی۔ میرا خیال تھا کہ نماز جمعہ کے بعد یہاں بہت کم لوگ ٹھہریں گے۔ مگر اتنے زیادہ آدمی ٹھہرے کہ وسیع مسجد بالکل بھری ہوئی تھی۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تک نماز کی روشنی میں اسلامی عبادت کی تشریح کی۔

انگریزی روز نامہ فری پریس جرنل نے ٹیلی فون کیا تھا کہ وہ مجھ سے انٹرویو لینا چاہتے ہیں ۔ مقررہ وقت کے مطابق ان کی خاتون نمائندہ مسٹر سپیر ونے میری رہائش گاہ پر مفصل انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستان کے مسلمانوں سے متعلق تھا۔ کچھ سوالات اسلام کے بارہ میں بھی تھے۔ یہ انٹرویو ۸ نومبر کو نماز عصر کے بعد ریکارڈ کیا گیا۔

۸ نومبر کو نماز مغرب کے بعد قارئین الرسالہ کا اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ایک ہال میں تھا۔ پہلے قارئین الرسالہ کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے الرسالہ مشن کی وضاحت پر ایک مفصل تقریر کی۔

۹ نومبر کی رات کو ہندی اخبار جن ستا کے نمائندہ احمد اظہار اور ہندوستان ڈیلی کے نمائندہ عبد الرحمن صدیقی نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو میں دوقسم کے سوالات کئے گئے۔ الرسالہ مشن اور مسلمانوں کے موجودہ مسائل۔ الرسالہ مشن کے سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس کا مشن لوگوں کو باشعور بنانا ہے۔ مسائل کے سلسلہ میں میں نے کہا کہ میرے نزدیک ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page