Old ideas, new techniques.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲
میں نے کہا کہ صحیح سوچ وہ ہے جو مبنی بر فرد (individual based) ہو۔ یعنی فرد کو اصلاح یافتہ بنانا۔ یہ کام سب سے زیادہ عورتوں کے کرنے کا ہے۔ کسی قوم کی نسل سب سے پہلے عورت کی تحویل میں آتی ہے۔ اگر عورت یہ فیصلہ کرلے کہ ہمیں قوم کے افراد میں کیریکٹر پیدا کرنا ہے تو ہر گھر اصلاح افراد کا کارخانہ بن جائے۔ اس طرح کے افراد جب سماج کا مجموعہ بنیں گے تو ان کے ذریعہ پورا سماج بہتر سماج بن جائے گا۔
11 نومبر کو نماز مغرب کے بعد جامع مسجد میں تقریر ہوئی۔ موضوع تھا، روشن مستقبل۔ میں نے ایک گھنٹہ کی تقریر میں بتایا کہ مسلمانوں کا مستقبل اس ملک میں دینی اعتبار سے بھی روشن ہے اور معاشی اعتبار سے بھی۔ دینی اعتبار سے اس لئے کہ اسلام غیر محرف مذہب ہونے کی بنا پر اپنے اندر تسخیری طاقت رکھتا ہے۔ اور معاشی اعتبار سے اس لئے کہ صنعتی انقلاب کے بعد معاشی ذرائع اتنے زیادہ بڑھ چکے ہیں کہ اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی آپ کو معاشی ترقی سے روک نہیں سکتی۔
11 نومبر کو عشاء کی نماز کے بعد ہوٹل پرتھم میں تقریر ہوئی ۔ اس کا عنوان تھا : اسلام اور سائنس یہ اجتماع روٹری کلب کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کی نشست ہوٹل کے خوب صورت لان میں ہوئی ۔ وسیع لان مکمل طور سے بھرا ہوا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ایسا اجتماع یہاں کبھی نہیں دیکھا گیا ! میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان سائنس میں پچھڑ گئے ہیں۔ مگر اس کا تعلق اسلام سے نہیں۔ اسلام تو جدید سائنس کا خالق ہے۔ پھر وہ اس کا مخالف کس طرح ہو سکتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں مختلف مثالوں سے اس کو واضح کیا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کے وقفہ میں ایک صاحب نے کہا کہ سائنس میں پچھڑ جانے کے بعد کیا مسلمان ترقی کر سکیں گے۔ میں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا : زندہ تو رہیں گے، مگر ترقی نہ کر سکیں گے۔
12 نومبر کو سولاپور کی مودی مسجد میں نماز ظہر کے بعد ایک تقریر تھی۔ اس کا عنوان تھا : اسلامی دعوت کے جدید امکانات۔ میں نے سادہ انداز میں بتایا کہ موجودہ زمانہ میں کس طرح دعوت کی اشاعت کے لئے موثر امکانات پیدا ہو گئے ہیں جن کو استعمال کر کے دین کو وسیع پیمانہ پر پھیلایا جا سکتا ہے۔
12 نومبر کی سہ پہر کو ایک سمپوزیم کا پروگرام تھا۔ اس کا اہتمام قومی یکتا کمیٹی کی طرف سے کیا گیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues