Al-Risala · August 1993 · page 41

Old ideas, new techniques.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱

شولا پور کا ایک خصوصی پروگرام روٹری کلب کے زیر انتظام ہوا۔ روٹری کلب یا روٹری انٹرنیشنل ایک سروس کلب ہے۔ اس کو ۱۹۰۵ء میں شکاگو کے ایک اٹارنی مسٹر پال ہیرس (Paul P. Harris) نے قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بزنس اور پروفیشن میں اعلیٰ اخلاقی معیار پیدا کیا جائے۔ اور تاجروں اور پروفیشنل لوگوں کے درمیان عالمی روابط قائم کئے جائیں۔ اس وقت ڈیڑھ سو ملکوں میں اس کے تقریباً سات لاکھ ممبر پائے جاتے ہیں۔ اس کا ہیڈ کوارٹر امریکہ کے شہر ایونسٹن (Evanston) میں ہے۔

روٹری کے موجودہ عالمی پریزیڈنٹ راجندر سبو (Rajendra K. Saboo) ہیں۔

روٹری نظریہ کے مطابق، روٹرین (Rotarian) سے ان کا کہنا ہے کہ اپنے آپ سے آگے دیکھو روٹری نیوز کے شمارہ اگست ۱۹۹۱ء میں ان کا پیغام چھپا ہے۔ (Look beyond yourself) اس کا خلاصہ اُن کے اِن الفاظ میں ہے —— اپنے کام کا نقشہ بناؤ اور اپنے نقشہ کو عمل میں لاؤ: Plan your work, work your plan. ۱۱ نومبر کو مجھے سو لاپور کے قمر النساء ویمنس اسکول میں جانا ہوا۔ وہاں کے ایک بڑے کمرہ میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ سامنے کی دیوار پر دنیا کا ایک بڑا نقشہ بنایا گیا تھا۔ اس میں سوویت یونین کے اوپر لکھا ہوا تھا، متحدہ سوویت سوشلسٹ جمہوریت۔ میں نے کہا کہ برسوں پہلے جب یہ الفاظ لکھے گئے تھے اس وقت وہ مطابق واقعہ تھے مگر اب وہ خلاف واقعہ بن چکے ہیں۔ کیوں کہ اب سوویت یونین سوویت ڈس یونین میں تبدیل ہو چکا ہے۔

گویا یہ دیوار ابھی تک گزرے ہوئے دور میں جی رہی ہے۔ وہ زمانہ حاضر میں داخل نہیں ہوئی۔ یہی حال مسلم دانشوروں کا ہے۔ وہ زمانہ حاضر سے بے خبر ہیں۔ وہ صرف گزرے ہوئے ماضی کو جانتے ہیں اور اسی کو سوچ سوچ کر اس سے اپنے لئے فخر کی غذا لیتے ہیں۔

۱۱ نومبر کو ۳ بجے خواتین کا اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ویمنس کالج کے احاطہ میں ہوا۔ اپنی تقریر میں میں نے کہا کہ ہمارے یہاں پچاس سال سے سماجی لیڈر اٹھ رہے ہیں۔ مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ کیوں کہ ان کی سوچ تمام تر مبنی بر نظام (system-based) ہے۔ وہ ایک کے بعد ایک حکومت کو توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومت بدل جاتی ہے مگر سماج نہیں بدلتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page