اسلامی حکمران
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸
اسلامی حکمران
صلاح الدین ایوبی ( ۱۱۹۳ - ۱۱۴۸) مصری سلطان کی فوج میں معمولی سپاہی تھے۔ اپنے غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے وہ ۳۱ سال کی عمر میں مصری افواج کے سپہ سالار مقرر کیے گئے۔ اسی کے ساتھ انہیں مصر کا وزیر بھی بنا دیا گیا اور انھیں ملک کا خطاب دیا گیا۔ بعد کو ایک انقلاب کے نتیجہ میں وہ مصر کے خود مختار سلطان ہو گئے ۔
یہ وہ وقت تھا جب کہ طویل صلیبی جنگوں کے درمیان یورپ کی مسیحی طاقتوں نے یروشلم فلسطین پر قبضہ کر لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے مسلم حکمرانوں میں یہ تبلیغ کی کہ وہ اپنی متحدہ کوشش ہی سے مسیحی یلغار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ مصر و شام وغیرہ ممالک کو متحد کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوری قوم میں جہادی روح پیدا کر دی ۔ انھوں نے زبردست تیاری کے بعد جولائی ۱۱۸۷ء میں حطین (فلسطین) کے مقام پر مسیحی افواج پر حملہ کیا اور ان کو فیصلہ کن شکست دی۔ اس کے بعد سلطان صلاح الدین کی فوجوں نے تیزی سے آگے بڑھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ یروشلم تک پہنچ گئیں اور بالآخر یروشلم کو فتح کر کے فلسطین کو دوبارہ اسلامی خلافت کا حصہ بنا دیا۔ تاہم سلطان صلاح الدین کی فوجی کارروائی نمایاں طور پر مسیحی اقوام کی کارروائیوں سے مختلف تھی۔ مسیحی اقوام نے فلسطین پر قبضہ کرنے کے بعد نہایت وحشیانہ انداز میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ اس کے برعکس سلطان صلاح الدین ایوبی نے مکمل ضبط سے کام لیا۔ انھوں نے کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ اس سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے :
Saladin's crowning achievement and the most disastrous blow to the whole crusading movement came on October 2, 1187, when Jerusalem, holy to both Muslim and Christian alike, surrend- ered to the Sultan's army after 88 years in the hands of the Franks. In stark contrast to the city's conquest by the Christians, when blood flowed freely during the barbaric slaughter of its inhabitants, the Muslim reconquest was marked by the civilized good faith and courteous behaviour of Saladin and his troops Encyclopaedia Britannica: 1984 Volume 16, p. 177
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues