Al-Risala · September 1993 · page 19

اسلامی حکمران

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۹

صلاح الدین کی شاندار کامیابی اور پوری صلیبی تحریک کی سب سے زیادہ تباہ کن شکست ۲ اکتوبر ، ۱۱۸۷ء کو ظہور میں آئی جب کیر وٹلم ، جو کہ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے نزدیک مقدس ہے ، وہ ۸۸ برس تک مسیحیوں کے قبضہ میں رہنے کے بعد دوبارہ سلطان کی فوجوں کے قبضہ میں آگیا۔ مسیحیوں نے جب شہر پر قبضہ کیا تھا تو انھوں نے وحشیانہ طور پر اس کے باشندوں کو قتل کیا اور آزادانہ طور پر لوگوں کا خون بہایا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا دوبارہ قبضہ مہذب انسانول کا قبضہ تھا ، صلاح الدین اور اس کی فوجوں نے مفتوح کے ساتھ فیاضانہ برتاؤ کیا۔

رعایا کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا یہ انصاف محض اتفاقی نہ تھا۔ یہ اس کی اسلامیت کا نتیجہ تھا۔ صلاح الدین صرف ایک بہادر اور حوصلہ مند شہ سوار ہی نہ تھا۔ وہ ایک خدا ترس اور عبادت گزار آدمی تھا۔ اس کا ذہن اسلامی تعلیمات کے تحت بنا تھا۔ اسلامی تعلیمات کے اثر سے سلطان صلاح الدین کا یہ حال تھا کہ وہ دنیا سے زیادہ آخرت کو اہمیت دیتا تھا۔ وہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ قیامت میں اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھ ہو گی۔ اسلام اس کے لیے اس میں مانع بن گیا تھا کہ اس کے اندر گھمنڈ کا مزاج پیدا ہو۔ اس کے برعکس اس کے اندر زہد اور تواضع کا مزاج تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۷ء) کے مقالہ نگار نے سلطان صلاح الدین کے زہد و تقویٰ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے :

.... and on March 4, 1193, he died. While his relatives were already scrambling for pieces of the empire, his friends found that the most powerful and most generous ruler in the Muslim world had not left enough money to pay for his grave. (16/178)

اور ۴ مارچ ۱۱۹۳ء کو صلاح الدین کا انتقال ہو گیا۔ جب کہ اس کے رشتہ دار ابھی سلطنت کے ٹکڑوں کے لیے آپس میں مکش کش کر رہے تھے، اس کے دوستوں نے پایا کہ مسلم دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ فیاض حکمران نے اپنے پیچھے اتنی رقم بھی نہیں چھوڑی ہے جو اس کی قبر کے اخراجات کو پورا کر سکے۔

اسلام ایک طرف انسان کی صلاحیتوں کو ترقی دیتا ہے۔ اور دوسری طرف اس کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے استعمال میں حد سے تجاوز کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page