Al-Risala · September 1993 · page 21

اختلاف کے باوجود

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱

بات کو سن کر مجھے خوشی ہوئی ہے کہ وہ اللہ کے کام میں مصروف ہیں۔ جب ان کو اس کام سے فراغت ہو جائے تو اس وقت وہ میرے پاس آجائیں۔ میں دربار میں ان کا انتظار کروں گا۔ شاہی قاصد نے دوبارہ مسجد میں آکر ابو ابراہیم کو الحکم کا پیغام سنایا۔ ابو ابراہیم نے کہا کہ تم جاکر امیر المومنین سے کہہ دو کہ میں بڑھاپے کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ پیدل چل کر ان کے پاس آؤں یا گھوڑے کی سواری کروں۔ باب السدہ جو کھلا ہوا ہے وہ یہاں سے کافی دور ہے۔ باب الصنع قریب ہے مگر وہ بند رہتا ہے۔ اگر امیر المومنین باب الصنع کھولنے کی اجازت دے دیں تو میں اس دروازہ سے ان کے پاس آجاؤں گا۔

باب الصنع ایک مخصوص دروازہ تھا جو ہمیشہ بند رہتا تھا۔ کسی ہنگامی موقع پر ہی اس کو کھولنے کی اجازت ہوتی تھی۔ ابو ابراہیم مذکورہ پیغام دے کر اپنے وعظ میں مصروف ہوگئے۔ دوسری طرف مذکورہ قاصد الحکم کے پاس گیا اور اس کو ابو ابراہیم کا پیغام پہنچایا۔ الحکم نے قاصد سے کہا کہ تم جا کر مسجد میں بیٹھ جاؤ اور جب وہ اپنا وعظ ختم کر لیں تو ان کو باب الصنع کے راستہ سے گزر کر میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ قاصد واپس آکر مسجد میں بیٹھا رہا۔ ابو ابراہیم نے جب اپنا وعظ ختم کیا تو اس نے ان سے کہا کہ باب الصنع آپ کے لیے کھول دیا گیا ہے اور امیر المومنین آپ کے منتظر ہیں۔ اس کے بعد ابو ابراہیم مسجد سے نکلے اور چلتے ہوئے باب الصنع پر پہنچے۔ وہاں امراء اور درباریوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود تھی۔ ابو ابراہیم دربار کے اندر داخل ہوئے۔ الحکم نے کچھ دیر تک ان سے باتیں کیں۔ اس کے بعد وہ اسی باب الصنع سے عزت و احترام کے ساتھ واپس ہوگئے۔

دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا۔ اس کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس نے لوگوں میں اکابر پرستی کے بجائے خدا پرستی پیدا کر دی۔ اس نے لوگوں میں یہ مزاج بنایا کہ وہ چیزوں کو شخصیتوں کی نسبت سے دیکھنے کے بجائے حقیقتوں کی نسبت سے دیکھیں ۔ یہ فکری انقلاب اتنا طاقت ور تھا کہ بعد کو جب مسلمانوں میں خلفاء کے بجائے سلاطین ہونے لگے اس وقت بھی لوگ ملوک اور سلاطین پر کھلی تنقیدیں کرتے تھے اور کسی کو بھی اس پر ٹوکنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page