Al-Risala · September 1993 · page 22

پکار کے وقت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲

پکار کے وقت

تھیو فیلس (Theophilus) بازنطینی سلطنت کے آخری دور کا حکمران ہے۔ اس کا مرکز سلطنت قسطنطنیہ تھا۔ اس کا زمانہ حکومت ۸۲۹ء تا ۸۴۲ء ہے۔ تھیو فیلس عباسی خلیفہ المعتصم کا ہم عصر تھا۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے قدیم رومی (بازنطینی) سلطنت کے بڑے حصہ کو پہلی صدی ہجری میں فتح کر لیا تھا۔ تاہم قسطنطنیہ اب بھی بازنطینی حکراں کے قبضہ میں تھا۔ موجودہ ترکی کے ایک حصہ پر اب بھی اس کی حکومت قائم تھی۔

قسطنطنیہ کا بازنطینی بادشاہ تھیوفیلس ۲۲۳ھ (۸۳۸ء) میں ایک بڑا لشکر لے کر نکلا اور مسلم علاقہ میں پہنچ کر زبطرہ پر چھاپہ مارا۔ اسی کے ساتھ اس نے ملطیہ کے مسلم قلعہ پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں اس نے بہت سے مسلمان مردوں اور عورتوں کو قتل کیا۔ انہیں گرفتار کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے کچھ لوگوں کا مُثلہ کیا۔ اس موقع پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بازنطینی سپاہیوں نے ایک عربی عورت کو پکڑا اور اس کو گھسیٹتے ہوئے لے چلے۔ عورت چلا اٹھی۔ اس کی زبان سے نکلا : وامعتصماه (ہائے معتصم) خلیفہ المعتصم اس وقت بغداد میں تھا۔ وہاں سے آنے والوں نے خلیفہ کو بازنطینی حکراں کے مظالم کی خبریں بتائیں۔ اسی کے ساتھ مذکورہ عرب عورت کا قصہ بھی بتایا۔ المعتصم اس کو سن کر تڑپ اٹھا۔ اس وقت وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے وامعتصماہ کا لفظ سنا تو اسی وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اپنے محل کی چھت پر چڑھا اور پکار کر کہا : النفير ، النفير (کوچ، کوچ)

اس کے بعد المعتصم نے زبردست تیاری کی اور ایک طاقت ور فوج کو لے کر مقام حادثہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ عموریہ (Amorium) پہنچ گیا۔ عموریہ (ترکی) اس وقت بازنطینیوں کے قبضہ میں تھا اور یہاں ان کا قلعہ تھا۔ المعتصم نے قلعہ کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ منجنیق کے ذریعہ اس پر گولے برسائے جائیں۔ یہاں تک کہ اس کی دیواریں ٹوٹ گئیں۔ المعتصم اپنی فوج کو لے کر قلعہ کے اندر داخل ہو گیا۔ اہل قلعہ نے ہتھیار ڈال دیئے۔ المعتصم نے تمام مسلم قیدیوں کو چھڑایا اور اس عرب عورت کو بھی قید سے رہا کیا جس نے اس سے پہلے وامعتصماہ کہہ کر خلیفہ کو پکارا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page