Al-Risala · January 1993 · page 45

حل کی طرف

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵

حل کی طرف

ہندوستان کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو پر ایک کتاب لندن سے شائع ہوئی ہے۔ اس کو مسٹر ایم جے اکبر نے مرتب کیا ہے اور وہ 400 صفحات پر مشتمل ہے :

M. J. Akbar, Nehru: The Making of India, 1988

اس کتاب میں نہرو کی زندگی سے متعلق کافی معلومات درج ہیں۔ اس کے باب ۴۷ میں مولف نے لکھا ہے کہ ۱۹۵۷ کے الیکشن کے بعد جب کیرالا میں کمیونسٹ پارٹی نے وزارت بنائی تو نئی دہلی کی ایک مجلس میں اس کا ذکر آیا۔ ایک ہال میں حکومت کے بڑے بڑے افسروں کے ساتھ نہرو بحیثیت وزیر اعظم شریک تھے۔ گفتگو کے دوران مسٹر وائی ڈی گنڈیویا نے کہا کہ جناب، کیرالا میں کمیونسٹوں نے اپنی حکومت بنالی ہے۔ اگر وہ کل کے الیکشن میں دوبارہ جیت جائیں اور دہلی کی حکومت پر قبضہ کر لیں تو اس کے بعد مرکز کا کیا حال ہو گا ۔

نہرو نے جواب دینے سے پہلے تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولے " کمیونسٹ ، کمیونسٹ ، کمیونسٹ ، آخر آپ لوگ کمیونسٹوں سے اور کمیونزم سے اس قدر گھبراتے کیوں ہیں۔ آپ کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ کمیونسٹ مرکز میں اقتدار حاصل کر لیں گے “ اس کے بعد نہرو دوبارہ چپ ہو گئے۔ پھر رک رک کر اور اعتماد کے لہجہ میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ " ہندوستان کے لیے خطرہ، اچھی طرح جان لیجئے ، کمیونزم نہیں ، یہ دائیں بازو کی ہندو فرقہ پرستی ہے : The danger to India, mark you, is not Communism. It is Hindu right-wing communalism (p. 580). مسٹر گنڈیویا جنھوں نے اپنی کتاب Outside the Archives میں یہ واقعہ لکھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نہرو نے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے اپنے مذکورہ جملہ کو کئی بار دہرایا۔ جواہر لال نہرو کو مہاتما گاندھی نے اپنا سیاسی جانشین (Political successor) کہا تھا۔ چنانچہ آزادی کے بعد وہ ہندوستان کے وزیر اعظم بن گئے۔ تاہم جواہر لال اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک نرم آدمی تھے۔ دوسری طرف کیبنٹ میں ان کے رفیق سردار پٹیل ایک آہنی انسان کہے جاتے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page