M. J. Akbar, Nehru: The Making of India, 1988
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۴
تھے ۔ سردار پٹیل مزاجاً سخت متعصب تھے ، اسی کے ساتھ مرکزی حکومت میں امورِ داخلہ کا شعبہ ان کے پاس تھا ۔
آزادی (۱۹۴۷) کے فوراً پہلے اور اس کے بعد ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے ۔ ان کو دبانے کی اصل ذمہ داری سردار پٹیل کی تھی ۔ مگر انھوں نے اس معاملہ میں ڈھیل دینے کی پالیسی اختیار کی ۔ جواہر لال نہرو کو اس مسئلہ پر سردار پٹیل سے سخت اختلاف تھا۔ ۔ بدر الدین طیب جی نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ اگر نہرو نے اس معاملہ میں اس وقت مضبوط موقف اختیار کیا ہوتا ، وہ سردار پٹیل کی مخالفت کرتے جب کہ ابھی مہاتما گاندھی زندہ تھے تو ہندوستان کی سیاست کا رخ بالکل دوسرا ہوتا :
If he had taken a stand then, opposing Sardar Patel while Gandhi was still alive, Indian politics would have taken quite a different turn. Badruddin Tayabji, Memoirs of An Egoist, vol. I, p. 186. میرے نزدیک یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے ۔ نہرو ایک طرف آزاد ہندوستان کے مسائل رکھتے تھے جن سے نمٹنے کے لیے انہیں ایک سخت ہاتھ کی ضرورت تھی ۔ مثال کے طور پر ۵۰۰ دیسی ریاستوں کا مسئلہ ، اس کو سردار پٹیل کے سخت ہاتھ نے جس طرح حل کیا ، غالباً نہرو کے لیے اس طرح اس کا حل کرنا ممکن نہ ہوتا ۔ دوسری بات یہ کہ پٹیل کسی ایک شخص کا نام نہ تھا ، وہ دراصل ہندو فرقہ پرستی کے پورے گروپ کی علامت تھا ۔ یہ گروپ اتنا طاقتور تھا کہ اس نے اسی سوال پر خود گاندھی کو قتل کر دیا ۔ پھر نہرو کے لیے کیوں کر ممکن تھا کہ وہ اس پر قابو پالیتے ۔ کسی دوسرے کی کمزوری سے زیادہ یہ خود ہندو فرقہ پرستی کی طاقت تھی جس نے نہرو کو دبالیا ۔ اسی نے مہاتما گاندھی کو گولی کا نشانہ بنایا ۔ راج گوپال اچاری کو سیاست سے بے دخل کر دیا اور اکٹھے برہم چاری جیسے کتنے منصف مزاج ہندوؤں کو عاجز کر کے چھوڑ دیا ۔ وغیرہ نہرو نے جس خطرہ کی نشاندہی کی تھی ، وہ آج ایک واقعہ بن چکا ہے ۔ آج ہندو فرقہ پرستی اپنی پوری طاقت کے ساتھ جاگ اٹھی ہے اور اپنے بھیانک نتائج دکھارہی ہے ۔ آج بھی ہندوؤں میں ایسے ہوش مند اور انصاف پسند لوگ موجود ہیں جو اس کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues