ماضی اور حال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸
ماضی اور حال
ہارون الرشید (۸۰۹-۷۸۶) عباسی دور کا مشہور خلیفہ ہے۔ اس کی حکومت مشرق میں چین سے لے کر مغرب میں اٹلانٹک تک پھیلی ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ہارون الرشید نے بادل کے ایک ٹکڑے کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا تو اس کی زبان سے نکلا : امطری حیث شئت فسیأتینی خراجك (جہاں چاہے جاکر برس، تیرا خراج میرے ہی پاس آئے گا)
خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں بغداد دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر تھا۔ اس نے فرانس کے بادشاہ شارلیمان (۸۱۴-۷۸۲) کے لیے ایک گھڑی بطور تحفہ بھیجی تھی۔ یہ گھڑی پانی سے چلتی تھی اور وقت بتانے کے لیے آواز کرتی تھی۔ اس کو دیکھ کر شارلیمان کے درباری حیران رہ گئے۔ وہ اس کی تشریح نہ کر سکے۔ انھوں نے گمان کیا کہ اس گھڑی کے اندر ایک شیطان ہے جو اس کو حرکت دیتا ہے (أهدى لشارلمان ساعة مائية دقاقتہ ۔ احتار رجال شارلمان في تفسيرها وظنوا ان فيها شيطاناً يحركها)
خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ کا ایک واقعہ عرب تاریخوں میں نقل کیا گیا ہے ، اس زمانہ میں نقفور اوّل (NICEPHORUS I) روم کی باقی ماندہ سلطنت کا جانشین تھا۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کی حکومت عباسی خلافت کو جو خراج دے رہی تھی، اس کو روک دے۔ اس نے ہارون الرشید کو ایک خط لکھا۔ اس کا مضمون یہ تھا :
من نقفور ملك الروم إلى هارون ملك العرب۔ شاہ روم نقفور کی طرف سے شاہ عرب ہارون کے نام اما بعد فإن الملكة التي كانت قبلی اقامتت اس کے بعد یہ ہے کہ مجھ سے پہلے جو ملکہ تھی اس نے تم کو مقام الرُّخ واقامت نفسها مقام البيذق رخ (خیالی قسم کا بڑا جانور) کی حیثیت دے دی اور فحملت اليك اموالها احمالا۔ وذلک اپنے آپ کو بیدق (شطرنج کا پیادہ) سمجھ لیا۔ چنانچہ لضعف النساء وحمقھن۔ فإذا قرأت اپنا مال لاد کر تمہارے پاس بھیج دیا۔ یہ عورتوں کی کتابی فاردد ماحصل قبلك کمزوری اور ان کی بے وقوفی کی وجہ سے ہوا پس من اموالها والا فالسيف جب تم میرے اس کو پڑھو تو اس کا جو مال تم کو اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues