Al-Risala · September 1993 · page 27

تاریخ کا صفحہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۷

سلطان ابو الحسن پر فالج کا حملہ ہوا اور اس کی بینائی بھی ختم ہو گئی ۔ سلطان ابو الحسن اس کے بعد غرناطہ کے تخت سے دستبردار ہو گیا اور اپنی جگہ اپنے بھائی ابو عبد اللہ زغل کو سلطان مقرر کیا۔ اس کے بعد ایک سازش کے تحت ابو عبد اللہ زغل کو سلطنت سے ہٹا دیا گیا اور ابو عبد اللہ محمد پورے سلطنت غرناطہ کا حکمران بن گیا۔ مگر اس کے اندر اپنے باپ والی دانش مندی موجود نہ تھی۔ چند مقابلوں میں اس نے مسیحی حکمران سے شکست کھائی۔ آخری مرحلہ میں غرناطہ کے قلعہ کو مسیحی فوجوں نے گھیر لیا۔ ابو عبد اللہ محمد جس نے اپنے اور اپنے چچا کے مقابلہ میں بہادری دکھائی تھی وہ مسیحی فوجوں کے مقابلہ میں صرف بز دل ثابت ہوا۔ آخر کار ۲ جنوری ۱۴۹۲ کو اس نے قلعہ اور غرناطہ کی دستبرداری کے معاہدہ پر دستخط کر دیے ۔ اس معاہدہ پر ایک طرف فاتح فردی نند نے اپنا دستخط ثبت کیا۔ اور دوسری طرف مفتوح ابو عبد اللہ محمد نے ۔ ایک مورخ نے اسپین کے مذکورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غرناطہ کے آخری مسلم حکمران سلطان ابو الحسن نے فردی نند اور از بیلا کو شکست دی تھی۔ مگر اس کے اپنے لڑکے ابو عبد اللہ نے اس کے خلاف بغاوت کر دی جو آخر کار اس کے باپ کے زوال کا سبب بنی ۔ The last ruler of Granada, Sultan Abul-Hasan, defeated Ferdinand II (1452-1516) and Queen Isabella, but his own son, Abu Abdullah, made a coup against his father which resulted to the downfall of his father. اس دنیا میں باہمی اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے اور باہمی اختلاف سب سے بڑی کمزوری ۔ یہ بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے ۔

اختلاف کا سبب کیا ہوتا ہے اور اتحاد کس طرح پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب لوگوں کے اوپر ذاتی مفاد کا غلبہ ہو جائے تو ان کے درمیان اختلاف ابھر آئے گا ۔ اور جب وہ قومی مفاد کو اہمیت دیں تو وہ باہم متحد رہیں گے۔ قوم کے وسیع تر مفاد کا احساس انفرادی اختلافات پر غالب آ جاتا ہے ۔ لوگ اختلاف کے باوجود متحد رہتے ہیں ۔ لوگ اختلاف کے باوجود اپنے اپنے اختلاف کو اپنی ذات تک رکھتے ہیں ، وہ اپنے اختلاف کو اجتماعی تعلق میں موثر نہیں ہونے دیتے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page