Al-Risala · September 1993 · page 31

رحم دل فاتح

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱

صلاح الدین نے مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے اکتوبر ۱۱۸۷ء میں قلعہ القدس پر قبضہ کر لیا۔ صلیبیوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں فلسطین کے مسلمانوں پر ہر قسم کے ظلم کیے تھے۔ مگر صلاح الدین نے فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے خلاف کوئی بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ان کی تلوار صلیبی جارحیت کے خلاف میان سے نکلی تھی، صلیبی جارحیت کو ختم کرتے ہی وہ دوبارہ میان میں چلی گئی۔ فرانسیسی مستشرق نے لکھا ہے کہ صلاح الدین نے مسیحیوں کے ساتھ انتہائی شریفانہ معاملہ کیا۔ قدس میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے حکم جاری کیا کہ اسپتالوں میں جو مسیحی لوگ زیر علاج ہیں، ان کا علاج جاری رکھا جائے ۔ تمام بڑے بڑے چرچ مسیحیوں کے قبضہ میں بدستور باقی رہے۔ انھوں نے ۱۵۰۰ مسیحیوں کے اوپر سے جزیہ معاف کر دیا، کیوں کہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ مفلسی کی وجہ سے جزیہ نہیں دے سکتے۔ انھوں نے ایک بڑے صلیبی عہدیدار کو اجازت دی کہ وہ چرچ کے خزانہ کو اپنے ساتھ جہاں چاہے لے جائے ۔ وغیرہ صلیبی فوجی جو گرفتار ہو گئے تھے ، ان کی عورتیں صلاح الدین کے پاس آئیں ۔ انھوں نے صلاح الدین کے پیروں پر اپنا سر رکھ دیا اور اپنے فوجی شوہروں کی رہائی کی درخواست کی۔ چنانچہ انھوں نے تمام فوجیوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔ مضمون ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے :

فته كان المؤرخ الفرنسی (جوستاف لوبون) فرانسیسی مورخ گستاڈ لیبان یہ کہنے میں بالکل على حق عـند مـا قال جملته الماثورة : حق بجانب تھا کہ تاریخ نے عربوں سے زیادہ لم يعرف التاريخ فاتحاً ارحـم مـن رحم دل فاتح نہیں دیکھا العرب (صفحہ ۱۰۱)

جنگ کے بارہ میں یہی اسلام کا اصول ہے۔ اسلام جارحیت کے خلاف دفاع کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ مگر جب جارح کی تلوار ٹوٹ جائے تو اس کے بعد اہل اسلام بھی اپنی تلوار توڑ لیتے ہیں۔ اسلام میں دفاع ہے مگر جارحیت نہیں۔ اسلام میں حفاظتی کارروائی ہے مگر انتقامی کارروائی نہیں۔ اسلام میں اپنا حق وصول کرنا ہے مگر اسلام میں یہ جائز نہیں کہ آدمی دوسرے کے خلاف دست درازی کرنے لگے۔ اسلام جس دل میں اترتا ہے وہ اس کو مثبت احساسات میں جینے والا انسان بناتا ہے نہ کہ منفی احساسات میں جینے والا انسان۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page