ظالم کا دل ہل گیا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲
ظالم کا دل ہل گیا
ساتویں صدی ہجری میں تاتاری قبائل نے اسلامی سلطنت پر حملہ کیا اور عراق، ایران، ترکستان میں مسلم تہذیب و سلطنت کو زیر و زبر کر ڈالا۔ مگر اس کے بعد اللہ نے ان کے دلوں کو نرم کیا اور تقریباً پوری کی پوری قوم مسلمان ہو کر اسلام کی پاسبان بن گئی۔ اس زما کے دعوتی واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ شیخ جمال الدین ایرانی کہیں جا رہے تھے۔ اتفاق سے انھیں دنوں ایک تاتاری شہزادہ تغلق تیمور شکار کے لئے نکلا ہوا تھا۔ یہ شہزادہ تاتاریوں کی چغتائی شاخ کا ولی عہد تھا جو ایران پر حکومت کر رہی تھی۔ شیخ جمال الدین ایرانی چلتے ہوئے اس علاقہ میں پہنچ گئے جہاں شہزادہ شکار کھیل رہا تھا۔ تاتاری اس زمانہ میں ایرانیوں کو منحوس سمجھتے تھے۔ شہزادہ کے سپاہیوں نے شکار گاہ میں ایک ایرانی کی موجودگی کو برا فال سمجھا اور ان کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد وہ اس گستاخ ایرانی کو شہزادہ کے پاس لے گئے۔ شہزادہ ان کو دیکھ کر سخت برہم ہوا۔ غصہ کی حالت میں اس کی زبان سے نکلا : تم ایرانیوں سے تو ایک کتا اچھا ہے۔ شیخ جمال الدین تاتاری کے اس نفرت انگیز سوال کو سن کر سنجیدہ انداز میں بولے : اگر ہم کو سچا دین نہ ملا ہوتا تو یقیناً ہم کتے سے بھی زیادہ برے ہوتے۔ تاتاری اگر چہ وحشی تھے مگر ان میں فطری مردانگی کا جو ہر موجود تھا۔ وہ منافقت سے خالی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ کا یہ جواب تغلق تیمور کے لئے سخت جھنجھوڑنے والا ثابت ہوا۔ اس نے حکم دیا کہ جب میں شکار سے فارغ ہو جاؤں تو اس ایرانی کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ شیخ جمال الدین جب حاضر کئے گئے تو وہ ان کو تنہائی میں لے گیا اور ان سے پوچھا کہ یہ دین کیا ہے۔ شیخ جمال الدین نے نڈر ہو کر اس کے سامنے اسلام کی تعلیمات پیش کیں۔ اس گفتگو نے تاتاری شہزادہ کا دل ہلا دیا۔ بے دینی کی حالت میں مرنا اسے بڑا خطر ناک معلوم ہونے لگا۔ وہ اس پر آمادہ ہو گیا کہ اسلام قبول کر لے۔ تاہم ابھی وہ ولی عہد تھا، بادشاہ نہ تھا۔ اس نے کہا کہ اس وقت اگر میں اسلام قبول کرتا ہوں تو میں اپنی رعایا کو اسلام کے دین پر نہیں لاسکتا۔ اس نے شیخ جمال الدین سے کہا : اچھا اس وقت تم جاؤ نہ جب تم سنو کہ میری تاج پوشی ہوئی ہے اور میں تخت پر بیٹھ گیا ہوں تو اس وقت تم میرے پاس آنا۔ شیخ جمال الدین اپنے گھر واپس آگئے اور اس وقت کا انتظار کرنے لگے جب کہ تغلق تیمور کی تخت نشینی کی خبر انہیں معلوم ہو۔ مگر یہ وقت ان کی زندگی میں نہیں آیا۔ یہاں تک کہ وہ مرض الموت میں مبتلا ہو گئے۔ اس وقت انھوں نے اپنے لڑکے شیخ رشید الدین کو بلایا اور تاتاری شہزادہ کا قصہ بتا کر کہا کہ دیکھو میں ایک مبارک گھڑی کا انتظار کر رہا تھا۔ مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا آنا میری زندگی میں مقدر نہیں۔ اس لئے میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ جب تم سنو کہ تغلق تیمور کی تاج پوشی ہوئی ہے تو تم وہاں جانا اور اس کو میرا اسلام کہنا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues