ترک فاتح
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۶
ترک فاتح
ترکوں نے ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ فتح کیا جو اب استنبول کہا جاتا ہے۔ یہ مسیحی دنیا کے لیے سب سے زیادہ ہلا دینے والا واقعہ تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ یک یونانی کتبہ میں اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے گئے کہ اس سے زیادہ ہولناک واقعہ نہ کبھی ہوا ادر نہ کبھی ہوگا : There has never been and there never will be a more dreadful happening (p. 336). حضرت عثمان کی خلافت (۶۵۶ ۔ ۶۴۴ء) کے زمانہ میں مسلمان ترکی میں داخل ہو گئے تھے۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں انہوں نے ترک علاقہ میں مزید پیش قدمی کی۔ مگر اس کا دار السلطنت قسطنطنیہ انتہائی محفوظ جغرافیہ اور بے حد مضبوط قلعہ کی بنا پر اتنا مستحکم تھا کہ بار بار کوشش کے باوجود مسلمان اس کو مسخر نہ کر سکے۔ اس کی تسخیر ۸۰۰ سال بعد صرف ۱۴۵۳ میں ممکن ہوسکی۔
ترکی کا عثمانی سلطان محمد دوم جو محمد فاتح کے نام سے مشہور ہے، وہ پہلا شخص ہے جس نے اس طویل مہم کو کامیابی تک پہنچایا۔ اس نے اس مقصد کے لیے نہایت گہر انسو بہ بنایا۔ سلطان محمد ۱۴۵۱ میں تخت پر بیٹھا جو اس وقت اور نہ (Edirne) میں تھا۔ اس نے خاموش اور مسلسل عمل کے ذریعہ تمام ممکن سیاسی اور فوجی تدبیریں اس مقصد کے لیے مہیا کیں۔
۱۴۵۲ کا پورا سال اس نے باسفورس کے کنارے ایک نیا قلعہ تعمیر کرنے میں صرف کیا جہاں سے جنگی کارروائیوں کو منظم کیا جاسکے۔ یہ قلعہ بعد کو قلعہ رومیل (Rameli Hisari) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے ۳۱ جنگی جہازوں کا ایک طاقتور بیڑا تیار کروایا تا کہ سمندر کے راستہ سے موثر حملہ کیا جاسکے۔ اس نے ہنگری کے ایک استاد اربان (Urban) کو بلا کر اتنی بڑی توپ تیار کرائی جو اس وقت کے یورپ میں ایک نادر چیز تھی۔ یہ توپ سازی بے عد اہم تھی، کیونکہ اسی کے ذریعہ قسطنطنیہ کی مضبوط سنگی فصیل توڑی جاسکی۔
اس قسم کی مختلف ضروری تیاریوں کے علاوہ اس نے مزید یہ کیا کہ بوقت جنگ یونان اور ہنگری کو غیر جانب دار رکھنے کے لیے ان سے امن معاہدے کیے جن کی شرائط ایک طرفہ طور پر ان کے مفاد میں تھیں :
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues