Al-Risala · September 1993 · page 37

ترک فاتح

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷

To keep Venice and Hungary neutral, he signed peace treaties favourable to them (11/860). یہ عین وہی تدبیر تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ حدیبیہ کے وقت اختیار فرمائی، اور جس کے ذریعہ آپ نے مکہ کے قریش کو خیبر کے یہودیوں سے کاٹ دیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت قریش اس کے پابند ہو گئے تھے کہ بوقت جنگ وہ یہود کی مدد نہیں کریں گے۔

ان تمام تیاریوں کے بعد سلطان محمد خاموش نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے جنگی کارروائی کی کمان براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پوری مہم کے دوران وہ بذات خود اس میں شریک رہا۔ قسطنطنیہ کی مہم کی تیاری اور اس کی کار روائیوں کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ اس کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس زبردست منصوبہ بندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ فتح ہو گیا۔ باز نطینی شہنشاہیت کا آخری تاجدار قسطنطین (Constantine XI) جنگ کرتا ہوا شہر کے دروازے پر مارا گیا۔ ترکی میں مسلمانوں کی فتح تکمیل کو پہنچ گئی۔

اس فتح کے بعد ترکی کی راجدھانی ادرنہ (ایڈریا نوبل) کے بجائے قسطنطنیہ قرار پائی اور آج تک وہ وہیں قائم ہے۔ اب اس کا نام استنبول ہے۔ قسطنطنیہ گیارہ سو سال سے زیادہ مدت تک مسیحی سلطنت کی راجدھانی تھا۔ اس کے بعد وہ مسلم سلطنت کی راجدھانی بنا۔ تقریباً پانچ سو سال تک وہ عظیم عثمانی خلافت کی راجدھانی اور پورے عالم اسلام کی سیاسی طاقت کا مرکز رہا ہے۔ اس کی یہ حیثیت پہلی بار صرف جنگ عظیم اول (۱۸۔ ۱۹۱۹) میں ختم ہوئی۔

فتح مکہ (۶۳۰ء) سے لے کر فتح قسطنطنیہ (۱۴۵۳ء) تک اسلامی تاریخ کے تمام بڑے بڑے فاتحانہ واقعات گہری حکمت اور عظیم منصوبہ بندی کے ذریعہ انجام پائے ہیں۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بات ہے کہ مسلمان تدبیر اور منصوبہ بندی کے بغیر محض جوش و خروش کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر بالا کوٹ مارچ (۱۸۳۱) سے لے کر اجودھیا مارچ (۱۹۸۹) تک ان کے تمام اقدامات صرف ناکامی پر ختم ہو رہے ہیں۔

حدیث میں ہے کہ مومن کی فراست سے بچو۔ کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے مومن کا ایمان اس کو زیادہ بہتر تدبیر کے قابل بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page