Al-Risala · September 1993 · page 39

ناکامیوں کے بعد

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹

بابر نے پہلی بار ۱۵۱۹ میں ہندوستان پر حملہ کیا۔ اس کی پیش قدمی جاری رہی۔ یہاں تک کہ ۱۵۲۶ میں اس نے دہلی اور آگرہ پر قبضہ کرکے ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اپنے وطن فرغانہ کو اس نے ایک شکست خوردہ انسان کی حیثیت سے چھوڑا تھا، مگر ۲۶ دسمبر ۱۵۳۰ کو آگرہ میں جب اس کا انتقال ہوا تو تاریخ اس کو اپنے صفحات میں ایک فاتح بادشاہ کی حیثیت سے درج کر چکی تھی۔ بابر کو کامیابی اس حوصلہ مندانہ عمل کی بنا پر ہوئی کہ اس نے اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا۔ اس نے خود ناکامی کے اندر وہ پہلو تلاش کر لیے جو اس کو عظیم تر کامیابی کی طرف لے جانے والے ہوں۔ بابر کو جب اپنے حریفوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی تو اس نے شکایتی انداز اختیار نہیں کیا۔ اس نے ایسا نہیں کیا کہ وہ ان کی سازشوں اور ان کے تخریبی منصوبوں کی فہرست مرتب کرنے لگے۔ وہ اپنے حریفوں کے خلاف لفظی گولہ باری میں مشغول ہو جائے ۔

اس کے بجائے بابر نے اپنا ذہن اس سوچ میں لگایا کہ میرے حریفوں کو میرے مقابلے میں کامیابی کیونکرحاصل ہوئی۔ میری ہار اور ان کی جیت کا سبب کیا تھا۔ بابر کی اس سوچ نے اس کو بتایا کہ اس کے حریف زیادہ کارگر تدبیروں کو جانتے تھے۔ انھوں نے زیادہ مؤثر حربے استعمال کر کے اس کو ناکام بنا دیا۔

اب بابر نے اپنے حریف کے حربوں اور ان کی تدبیروں کو اپنانا شروع کیا۔ اس نے مزید غور و تجربہ کے ذریعہ ان کو مزید ترقی یافتہ بنایا۔ اس طرح زیادہ بہتر طور پر مسلح ہو کر اس نے ایک نئے وسیع تر میدان (برصغیر ہند) کی طرف رخ کیا۔ اس کی یہ تدبیر کامیاب رہی۔ اپنے وطن میں اس نے جتنا کھویا تھا، اس سے بہت زیادہ اس نے وطن کے باہر حاصل کر لیا۔

موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں دوسروں سے ٹکراؤ ہوتا ہے۔ اس لیے ناکامیوں کا پیش آنا لازمی ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اپنی ناکامی کو اپنے لیے غذا بنا سکے۔ وہ کھونے میں پانے کا راز دریافت کرلے ۔

مومن سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر سکے۔ کیونکہ مومن کا اللہ پر بھروسہ اس کو کبھی مایوس اور پست ہمت نہیں ہونے دیتا۔ وہ ہر حال میں پرامید رہتا ہے، کیونکہ ہر حال اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور وہ ضرور اس کا ساتھ دے کر اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page