ناکامیوں کے بعد
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸
ناکامیوں کے بعد
ظہیر الدین محمد بابر (۱۵۳۰-۱۴۸۳) فرغانہ میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت ازبکستان (ازبیک) میں شامل ہے۔ باپ کے واسطہ سے اس کا سلسلہ نسب تیمور سے ملتا ہے اور ماں کے واسطہ سے چنگیز خاں سے۔ بابر کا باپ عمر شیخ مرزا فرغانہ کا حاکم تھا۔ اُس وقت یہ مقام کوہ ہندوکش کے شمال میں ایک چھوٹے پرگنہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
فرغانہ کے پڑوس میں سمرقند تھا جو تیمور کی قدیم راجدھانی تھا۔ یہاں محمد شیبانی خاں کی حکومت تھی جو چنگیز خاں کی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ بابر کا باپ مستقل اس کوشش میں رہا کہ وہ سمرقند کو فتح کر کے اس کو اپنی سلطنت میں شامل کرے ۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ باپ کی وفات پر ۱۴۹۴ء میں بابر فرغانہ کا حاکم بنا جب کہ اس کی عمر صرف گیارہ سال تھی۔ باپ کی پیروی میں اس نے سمرقند پر قبضہ کرنے کے لیے اس پر کئی حملے کیے ۔ مگر ۱۵۰۱ء میں اس کو فیصلہ کن شکست ہوئی ۔ یہاں تک کہ اس نے خود اپنی موروثی سلطنت فرغانہ کو بھی کھو دیا ۔
ایک مورخ نے لکھا ہے کہ ایک کم سن بادشاہ کی حیثیت سے بابر نے فرغانہ کو کھو دیا ۔ وہ مصیبتوں کے ایک دور میں داخل ہو گیا ۔ اس کو خود اپنے پدری اور مادری چچاؤں سے لڑائی لڑنی پڑی ۔ مگر ۲۰سالہ مصیبت اور جنگ کے دوران اس نے اپنے حریفوں ترک ، مغل ، ایرانی اور افغانی) سے کامیاب جنگی تدبیریں اور حربی طریقے سیکھ لیے ۔ اس نے ان طریقوں میں سائنٹفک امتزاج پیدا کیا۔ سالہا سال کی شکستوں اور وطن سے محرومی اور طرح طرح کی مشکلات کے نتیجہ میں وہ ایک اچھا فوجی جنرل بن گیا ۔ اپنے باپ دادا کے علاقہ کو حاصل کرنے کے بارہ میں اپنے منصوبہ کی ناکامی کے بعد بابر نے اپنی توجہ ہندوستان کی طرف موڑ دی :
As a boy king he lost Farghana, and passed through a period of adversity, having to fight his own paternal and maternal uncles. During 20 years of adversity and warfare Babur trained himself by appropriating military tactics and modes of warfare of his adversaries – Turks, Mongols, Persians, and Afghans, and he made a scientific synthesis of these systems. He became a good general through a career of many defeats and through years of homeless wanderings, privations and hardships... Foiled in his design of recovering his ancestral domain in Central Asia, Babur turned his attention to India. (9/378).
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues