انتظار کیجیے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۸
انتظار ہر زخم کا مرہم ہے۔ انتظار محض انتظار نہیں، وہ خود ایک تدبیر ہے۔ مسئلہ پیش آنے پر دی اگر بے صبر نہ ہو، وہ صبر کرتے ہوئے انتظار کی پالیسی اختیار کر لے تو بہت جلد وہ محسوس کرے گا کہ انتظار اس کے مسئلے کا حل بن گیا ہے۔ انتظار نے اس کام کو زیادہ بہتر طور پر انجام دے دیا ہے جس کو وہ خود انجام نہیں دے سکتا تھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں ہمہ گیر طور پر فطرت کا قانون اصلاح رائج ہے۔ یہاں ہر زخم کے اندمال کا انتظام ہے۔ یہاں مسئلہ پیش آتے ہی فطرت کی طاقتیں سرگرم ہو جاتی ہیں کہ اس کا قریب ترین حل نکال سکیں۔ جو چیز انسان کے لیے انتظار ہے، وہ فطرت کے نظام میں مداخلت نہ کر کے اسے یہ موقع دینا ہے کہ وہ تلافی مافات کے عمل کو بہ سہولت اپنے آخری مرحلے تک پہنچا سکے۔ ایک آدمی رات کے اندھیرے میں اس طرح پھنس جائے کہ اس کے پاس روشنی کا کوئی سامان موجود نہ ہو تو اس کو سادہ طور پر صرف انتظار کے اصول کو اپنالینا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرے تو وہ دیکھے گا کہ ایک مدت گزرنے کے بعد صبح کی روشنی اپنے آپ نمودار ہو گئی ہے تاکہ اس کی راہوں کو روشن کر کے اس کے لیے منزل کی طرف سفر کو آسان بنا دے۔
خود صاحب معاملہ کی نسبت سے بھی انتظار محض انتظار نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک تدبیر ہے۔ کیوں کہ انتظار نہ کرنے والے شخص کا ذہن بیتے ہوئے واقعے میں اٹکارہتا ہے، جب کہ انتظار کرنے والے کا ذہن نئے حالات اور نئے امکانات کے دائرہ میں کام کرنے لگتا ہے۔ انتظار نہ کرنے والا اگر غم اور افسوس میں جیتا ہے تو انتظار کرنے والا مایوسی کے اندھیرے سے نکل کر امید کی روشنی میں چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
انتظار بے عملی نہیں، انتظار خود ایک عمل ہے۔ انتظار کا مطلب ٹھہرنا نہیں ہے۔ انتظار دراصل اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی ماضی سے اپنی نظریں ہٹا کر مستقبل کی طرف چل پڑا ۔ اس دنیا میں ہر کھونے کے بعد پانا مقدر کر دیا گیا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں انتظار حقیقتاً یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی محرومی کو بھلا کر یا فت کو اپنا مرکز توجہ بنالے۔
انتظار نہ کرنا ہمیشہ آدمی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انتظار کرنا ہمیشہ آدمی کے لیے فائدہ کا سبب بنتا ہے ۔ یہ ایک ایسا کلیہ ہے جس میں کوئی استثناء نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues