Al-Risala · October 1993 · page 59

دینی فہم

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۹

دینی فہم

قرآن میں ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ ۔۔ اور چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھوں کو تم کاٹ دو۔ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے دونوں کے لیے عبرت ناک سزا۔ اور اللہ عزیز و حکیم ہے (المائدہ ۳۸)

ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کو یہ حق ہے کہ وہ جس کسی کو بھی چوری کرتے ہوا پائے اس کو پکڑ کر اس کا ہاتھ کاٹ دے۔ مگر اس آیت کا یہ مطلب نہیں۔ اس طرح کی آیات میں اہل ایمان سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو باقاعدہ طور پر حکومت و اقتدار کے مالک ہوں۔ جب بھی چوری یا اور کوئی قابل سزا جرم واقع ہو، تو حکومت کے تحت قائم شدہ عدالتی نظام میں مجرم پر مقدمہ چلایا جائے گا اور باقاعدہ قانونی کارروائی کے بعد اس کا ہاتھ کاٹا یا اور کوئی سزا دینا جائز ہوگا :

وقد علم من قرع سمعہ ہذا الخطاب اہل علم میں سے جو کوئی اس حکم کو سنتا ہے وہ من (هل العلم ان المخاطبين بذلك جان لیتا ہے کہ اس کے مخاطب حکام ہیں نہ کہ هم الأئمة دون عامة الناس۔ فکان عام لوگ۔ پس یہاں تقدیر کلام اس طرح ہے کہ تقديرہ فليقطع الأئمة والحکام ائمہ اور حکام کو چاہیے کہ وہ ان دونوں کے ہاتھ (يديهما وليجلد هما الائمة والحکام کاٹ دیں اور وہ ان دونوں کو کوڑے ماریں۔ (ابوبکر الجصاص، احکام القرآن ۳/ ۲۸۳)

یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فقہ فی الدین کیا چیز ہے۔ فقہ سے یہ صلاحیت مراد ہے کہ آدمی ظاہری الفاظ سے گزر کر اس کی معنوی گہرائی کو سمجھ سکے۔ وہ سطور کے ساتھ بین السطور کو پڑھ سکے۔ وہ ظواہر سے آگے بڑھ کر حقائق کو دریافت کر سکے۔

اسی لیے کہا گیا ہے کہ ایک من علم راده من عقل می باید۔ جن لوگوں کے پاس ایک من علم ہو مگر ان کے پاس دس من عقل نہ ہو وہ خود بھی بھٹکیں گے اور دوسروں کو بھی بھٹکانے کا ذریعہ بنیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page