Al-Risala · October 1993 · page 60

فطرت کا قانون

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۶۰

فطرت کا قانون

ما اصاب من مصيبة في الارض کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمھاری ولا في انفسكم إلا في كتاب من قبل جانوں میں، مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ ان نبراها۔ إن ذلك على الله يسير۔ اس سے پہلے کہ ہم ان کو پیدا کریں۔ بیشک یہ لكيلا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا اللہ کے لیے آسان ہے، تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو بما آتاكم۔ واللہ لا يحب كل تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس مختال فخور۔ نے تم کو دیا۔ اور اللہ اترانے والے فخر کرنے (الحديد ۲۳-۲۴) والے کو پسند نہیں کرتا۔

قرآن کے ان الفاظ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ فطرت کے اس قانون کو جو لوگ جان لیں، ان کے لیے چھینے جانے کا واقعہ بھی اتنا ہی بامعنی ہو جاتا ہے جتنا کہ حاصل ہونے کا واقعہ۔ یہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں ہر ایک کو موافق اور ناموافق حالات سے گزارا جاتا ہے، تاکہ ہر پہلو سے آدمی کی جانچ ہو، اور یہ معلوم ہو جائے کہ کس طرح کی صورت حال میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ اس نے کس موقع پر اپنے آپ کو کیسا ثابت کیا۔ حالات کا اتار چڑھاؤ فطرت کا ایک قانون ہے جو کبھی کسی کے لیے بدلتا نہیں۔

اس دنیا میں کھونے اور پانے، دونوں قسم کے تجربے پیش آئیں گے، انفرادی سطح پر بھی اور قومی سطح پر بھی۔ مگر نہ یہاں کا پانا کامیابی ہے اور نہ یہاں کا کھونا محرومی۔ بلکہ دونوں ہی امتحان کے لیے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کھونے کو محرومی سمجھ کر بد دل نہ ہو جائے۔ اسی طرح اس کو چاہیے کہ وہ پانے کو اپنے لیے اعزاز سمجھ کر فخر و تکبر میں مبتلا نہ ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دونوں حالتوں کا استقبال معتدل نفسیات کے ساتھ کرے۔ ظاہری کامیابی بھی اس کے لیے فکری غذا کا ذریعہ ہو، اور ظاہری ناکامی بھی اس کی روحانیت میں اضافہ کرے۔ کوئی بھی واقعہ اس کے ذہن کو اس طرح ڈسٹرب نہ کرے کہ وہ مثبت طور پر سوچنے کے قابل نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page