Al-Risala · October 1993 · page 14

اسلام کا استحصال

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴

اسلام کا استحصال

ٹائم میگزین (۱۵ فروری ۱۹۹۳) نے ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں ایک با تصویر رپورٹ چھاپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم اور فساد ہو رہا ہے، اس کی وجہ مسلمانوں کے خلاف وہ مذہبی نفرت (religious hatred) ہے جو ہندوؤں کے دلوں میں پیدا ہو گئی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ہند و نفرت کی تاریخ دسویں صدی عیسوی تک جاتی ہے جب کہ مسلم حملہ آوروں نے برصغیر ہند کو لوٹنا اور مندروں کو تباہ کرنا شروع کیا : Hindu hatred for Muslims dates back to the 10th century, when Muslim invaders first began looting the subcontinent and destroying Hindu temples (p. 25). مسلم حملہ آوروں پر یہ الزام بہت عرصہ سے لگایا جا رہا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴- ۱۸۵۷) نے اپنے اعلیٰ انشا پردازانہ اسلوب میں اس کا طاقت ور دفاع کیا۔ برٹش انڈیا میں ان کی تحریریں بہت مقبول ہوئیں ۔ اس کے بعد مسلمان لکھنے اور بولنے والوں کا یہی عام رجحان بن گیا۔ ہر ایک اسی طرح شبلی کے اسلوب میں مسلم بادشاہوں کا دفاع کرنے لگا۔

یہ اسلوب مسلمانوں کو خوش کرنے میں بہت کامیاب رہا۔ مگر ہندوؤں کے ذہن کو بدلنے میں وہ اتنا ہی ناکام ثابت ہوا۔ ہندوؤں کا ذہن برعکس طور پر شدید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ اب بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی تاریخی نفرت اپنی آخری انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ یہ الٹا انجام بتاتا ہے کہ شبلی کا اسلوب مفید نہ تھا۔ کیوں کہ اس معاملہ میں اصل کام ہند و نفرت کو ختم کرنا ہے نہ کہ مسلمانوں کی واہ وا حاصل کرنا۔

اب ضرورت ہے کہ مسلمان اس معاملہ میں اپنے پورے رویہ کو تبدیل کریں۔ ہمیں ان مسلم بادشاہوں کا دفاع نہیں کرنا ہے بلکہ ان کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے برأت ظاہر کرنا ہے۔ ہمیں یہ کہنا ہے کہ اسلام بلاشبہ ایک سچا مذہب ہے۔ مگر مسلمانوں کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان ہیں جو اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے اسلام کا استحصال کرتے ہیں، اسی طرح پہلے بھی ہوا۔ مگر ان مسلمانوں کی کارگزاریوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page