تاریخ کا سبق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵
تاریخ کا سبق
سابق امریکی صدر جارج بش نے ۵ اکتوبر ۱۹۹۱ کو اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ایک شخص خارجہ پالیسی اور فوجی معاملات کو اقتصادی ترقی اور اصلاح سے جدا نہیں کر سکتا۔ دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ بڑھی ہوئی ہتھیار بندی اور جارحیت عراق کے لیے کتنی زیادہ مہنگی پڑی۔ دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ سیاسی اور فوجی طاقت پر بہت زیادہ توجہ دینا اور اقتصادیات کو نظر انداز کرنا سوویت یونین کے لیے کتنا زیادہ اور شاید مستقل طور پر نقصان کا باعث ثابت ہوا :
One can not separate foreign policy and military issues from economic growth and reform. The world has seen only too clearly the immense costs of over-armed, aggressive states such as Iraq. It has also seen how excessive focus upon projecting politico-military power and neglecting the economy has badly, perpahs permanently damaged the USSR. موجودہ دنیا میں کبھی کبھی ضرورت کے طور پر طاقت کو بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مگر طاقت کا استعمال صرف انتہائی ضرورت کے تحت وقتی طور پر کیا جاسکتا ہے۔ طاقت کو مستقل پالیسی بنانا کسی کے لیے بھی مفید نہیں ، نہ فرد کے لیے اور نہ قوم کے لیے، نہ منی پاور کے لیے اور نہ سپر پاور کے لیے۔
کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اقتصادی ترقی اور ہتھیاروں کی دوڑ کو بیک وقت جاری رکھ سکے۔ ہتھیار بندی میں زیادہ وسائل لگانا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ اقتصادی ترقی میں اسی کے بقدر کمی کرنی پڑے۔ ایسی پالیسی ہمیشہ مہلک ہوتی ہے۔ ماضی اور حال کی تاریخ میں اس کے عبرت ناک نمونے موجود ہیں۔
امن عمومی پالیسی کا عنوان ہے اور جنگ استثنائی اقدام کا عنوان۔ کسی بھی فرد یا قوم کے لیے صحیح ترین پالیسی یہی ہے کہ وہ امن اور حسن تدبیر کے ذریعہ دوسروں کے ساتھ اپنے معاملات درست کرے، جنگ یا طاقت کا طائرہ صرف شدید ترین ضرورت کے لیے اتفاقی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues