ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰
معلوم ہوا کہ اس لائبریری میں ہمت سے قدیم کتبات ہیں۔ ایک کتبہ میں یہ فارسی شعر تھا کہ بلند بہت آسمان سے بھی اوپر اٹھ جاتا ہے اور آدمی ہمت کے ذریعہ فرشتہ سے آگے چلا جاتا ہے: ہمت عالی زفلک بگذرد مرد بہ ہمت زملک بگذرد صبح تقریباً ساڑھے نو بجے ہم بمبئی ائیرپورٹ پر اتر گئے۔ لینڈنگ اتنی اسموتھ تھی کہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ جہاز زمین پر اتر گیا ہے۔ بمبئی ائیرپورٹ میں داخل ہوا تو وہی مانوس منظر تھا جو ہر ائیرپورٹ پر دکھائی دیتا ہے۔ لوگ مخصوص گاڑی سنبھال کر اپنا اپنا سامان لینے کے لئے کنویر بیلٹ کی طرف دوڑ رہے تھے۔
ائیرپورٹ سے ہم سب کو مسٹر رویندر کمار کی رہائش گاہ پہنچنا تھا۔ میں جس گاڑی میں تھا اس کو خود مسٹر رویندر کمار چلا رہے تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ بمبئی کا ایک مسلمان میکانک جس کی عمر ۲۸سال تھی۔ وہ اس فساد میں مارا گیا۔ بہت اچھا لڑکا تھا۔ مجھ سے بہت پریم تھا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ بٹوارہ کے بعد دونوں فرقوں میں جو کڑوا پن آگیا تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ نئی پیڑھی کو ان پرانی باتوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ لیکن اجودھیا کے جھگڑے کے بعد وہی دوری دوبارہ لوٹ آئی۔ یہ بہت صحیح ہے۔ دنیا میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمی یا دو گروہ میں کچھ شکایت کی باتیں ہو جاتی ہیں۔ مگر فطرت بہت جلد ان کو بھلا دیتی ہے۔ پہلے جھگڑے کے بعد اگر دوسرے جھگڑے سے بچنے کا اہتمام کیا جائے تو فطرت خود مرہم کا کام کرتی ہے۔ اور تعلقات نارمل حالت پر آجاتے ہیں۔ ۶ دسمبر کے واقعہ کے بعد بمبئی کے بعض علاقوں میں شدید فساد ہوا۔ مگر یہاں کا سب سے زیادہ حساس علاقہ بھیو نڈی فساد سے مکمل طور پر بچا رہا۔ سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی انوکھا واقعہ تھا۔ چنانچہ بھیو نڈی ایڈمنسٹریشن کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا (۲۲ دسمبر ۱۹۹۲) میں ایک رپورٹ پڑھی۔ رپورٹر کا نام پرکاش چندر تھا، اور اس کا عنوان یہ تھا :
ACPs study Bhiwandi's technique of peace
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues