ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۶
اس دوران لوگ بڑی تعداد میں نکل نکل کر ہمارے قافلہ میں شریک ہوجاتے۔ اس طرح یہ شانتی یاترا اپنی طے ہوئی کسی متعین مقام پر پہنچتی۔ یہاں پہلے سے اسٹیج تیار رہتا تھا۔ یہاں ہم لوگ ٹھہر کر تقریر کرتے جس میں امن اور تعمیر کی طرف متوجہ کیا جاتا۔ یہی طریقہ پورے سفر میں تمام مقامات پر جاری رہا۔ ہر جگہ لوگوں میں غیرمعمولی جوش تھا۔ میں نے دیکھا کہ سڑک پر کوئی شکریاتشرینی لا کر ہم لوگوں کو دے رہا ہے ۔ کوئی ہار لئے چلا آ رہا ہے۔ کوئی پھول پیش کر رہا ہے۔ غرض لوگوں میں عجیب جوش تھا ۔ شانتی یاترا کے آخر میں ہونے والے جلسہ میں ہر جگہ لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ امن اور شانتی کی آواز ہر آدمی کے دل کی آواز ہے۔ امن اور شانتی کی آواز بلند کرنا گویا لوگوں کی فطرت کے تاروں کو چھیڑ دینا ہے۔ اور جو پکار فطرت انسانی کے مطابق ہو، اس کو لوگوں کی طرف سے لبیک لنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ چاکن میں داخل ہونے کے بعد یہ یاترا، جلسہ اور دوسرے پروگرام کئے گئے ۔ ملاقات کے دوران چاکن کے ایک صاحب نے پوچھا کہ شانتی یاترا نکالنے سے آپ کا مقصد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا مقصد انسان کی فطرت کو جگانا ہے۔ اس وقت دیش میں جھگڑے کی جو فضا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے غلط باتیں کرکے انسان کو اس کی فطرت سے ہٹا دیا ہے۔ ہم انسان کو دوبارہ اس کی فطرت کی طرف واپس لانا چاہتے ہیں۔ اس دنیا میں ، فطرت سے ہٹنے ہی کا نام بگاڑ ہے، اور فطرت پر قائم ہونے کا نام بہاؤ۔
پھر میں نے کہا کہ سکھ والا سماج بے سکھ کو برداشت کرنے سے بنتا ہے۔ ضرورت ہے کہ لوگوں میں یہ مزاج بنایا جائے کہ کبھی کوئی کڑوی بات سامنے آجائے تو اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ کیوں کہ کبھی کبھی کوئی خلاف مزاج بات تو بہرحال پیش آئے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ پھول میں بھی کانٹے ہوتے ہیں۔ پھر خدا کا باغ جب کانٹوں سے خالی نہیں تو ہمارا سماج کس طرح ایسی چیزوں سے خالی ہو سکتا ہے۔
منچر میں حسب پروگرام شانتی یاترا کی تمام کارروائی انجام پائی۔ کئی لوگوں سے باتیں ہوئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ لوگوں نے اپنی شانتی یاترا اور اشارہ اشٹ سے کیوں شرو ع کیا۔ میں ابھی کچھ بولا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues