ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۷
اگر راشٹر میں تو یہ مہاراشٹر ہے۔ اس لئے بالکل پنچول تھا کہ اس کو پہلے لیا جائے ۔ کیوں کہ ہمارا شٹر میں شانتی آجائے تو اس کا اثر سارے راشٹر پر پڑے گا۔
اس سفر میں میری ملاقات ایک ہندو لیڈر سے ہوئی ۔ وہ انتہا پسند ہند وگروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ آپ کسی ریزرویشن کے بغیر مجھ سے بات کریں۔ وہ راضی ہوئے تو ہم دونوں ایک الگ کمرہ میں بیٹھے اور پھر دونوں میں بات شروع ہوئی۔
میں نے پوچھا کہ آپ ہندوستانی مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک لفظ میں یہ کہ (live or leave) یعنی بھارت میں رہنا ہے تو ہمارے کہنے کے مطابق رہو ، ورنہ دیش چھوڑ کر چلے جاؤ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ اب یہ بتائیے کہ مسلمان اگر دونوں میں سے کوئی کام نہ کریں، وہ نہ آپ کے کہنے پر چلیں اور نہ دیش کو چھوڑ کر باہر جائیں ، تو پھر آپ کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم ان کو سبق سکھا دیں گے۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ابھی تک اپنی طاقت کو نہیں جانتا تھا۔ اب رام مندر موومنٹ کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ ہندو نے اپنی طاقت کو جان لیا ہے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ہندو طوفان کے مقابلہ میں بابری مسجد اور سپریم کورٹ کے فیصلے تنکے کی طرح بہہ گئے۔ پھر یہ مسلمان کس طرح اس سیلاب کا مقابلہ کریں گے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اپنی بات کہہ چکے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ اجودھیا کا اسٹرکچر پتھروں کا ڈھیر تھا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ لفظوں کا مجموعہ تھا۔ آپ پتھر کے ڈھانچہ اور لفظوں کے مجموعہ کو انسان سے برابر (equate) کر رہے ہیں۔ آپ کا یہ ایکویشن غلط ہے۔ پتھروں کے ڈھانچے کسی طوفان میں گر سکتے ہیں۔ الفاظ کے اوراق کسی آندھی میں اڑ سکتے ہیں۔ مگر پندرہ کروڑ انسانوں کے اوپر رولر چلانا کسی طرح ممکن نہیں۔ میری یہ بات سن کر وہ خاموش ہو گئے۔
ہم سنگم نیر میں داخل ہوئے تو ہماری آگے کی جیپ پر اس کے الفاظ گونج رہے تھے ۔ ۔۔ گنگا جمنا کو ملنے دو ۔
ہماری پارٹی کے ایک شخص نے کہا کہ ہمارا دیش گنگا اور جمنا کا سنگم ہے۔ اسی طرح یہ دیش مختلف کلچر کا بھی سنگم ہے۔ سنگم نیرا گر دیش کے اس پہلو کی ایک مثال بن جائے تو یہ اس کے نام کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues