Al-Risala · October 1993 · page 31

ACPs study Bhiwandi's technique of peace

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱

پر دیا جاتا ہے۔

۱۳ دسمبر ۱۹۹۲ء کو میری ملاقات مولانا محمد قاسم قاسمی سے ہوئی۔ وہ مدرسہ حسین بخش میں استاد ہیں اور گونڈہ کالونی میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ۸ دسمبر کو جب پرانی دہلی میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی تو فور اًوہ گونڈہ کالونی چلے گئے اور ایک ہفتہ تک مسلسل وہیں رہے۔ انھوں نے ذاتی واقفیت کے تحت کئی واقعات بتائے۔

انھوں نے بتایا کہ گونڈہ کالونی میں ایک ہندو کالج ہے۔ مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ اس کالج میں ہتھیار جمع کئے گئے ہیں اور لڑکے وہاں اکٹھا ہو کر باقاعدہ فساد کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کچھ مسلمانوں نے فوراً پولیس کے ذمہ داروں کو ٹیلی فون کیا اور انھیں بتایا کہ یہاں فساد کا خطرہ ہے، آپ لوگ اس کو روکنے کی کارروائی کریں۔ اس کے بعد پولیس کی ایک پارٹی کالج میں داخل ہوئی۔ اس نے تلاشی لی تو خبر صحیح نکلی۔ پولیس نے اسی وقت تمام ہتھیار اپنے قبضہ میں کر لئے اور لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔

اسی طرح گونڈہ کالونی کے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ایک ہندو وکیل کے مکان کے اوپر ی حصہ میں گولہ بارود جمع ہے اور وہاں بم بنائے جا رہے ہیں۔ تحقیق کر لینے کے بعد کچھ سمجھدار مسلمان اس ہندو وکیل کے یہاں گئے اور اس سے کہا کہ آپ کے اوپر جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب ہم کو معلوم ہو چکا ہے۔ اب آپ یا تو سارا سامان ضائع کر دیں، ورنہ ہم پولیس کو بلاتے ہیں۔ ہندو وکیل نے معافی مانگی اور اسی وقت تمام سامان ضائع کر دیا۔

ایک رات کو کار سیوکوں کی ایک گاڑی گونڈہ کا لونی میں آگئی۔ وہ ہر ہر مہادیو کے نعرے لگانے لگے۔ اس کو سن کر کچھ مسلم نوجوان باہر نکل آئے۔ انھوں نے بھی اللہ اکبر کے نعرے لگانے شروع کر دئے۔ اس وقت فوراً کچھ سنجیدہ مسلمان باہر آئے۔ انھوں نے مسلم نوجوانوں کو روکا اور پولیس کو ٹیلی فون کر کے بلایا۔ پولیس نے اسی وقت کارروائی کر کے کار سیوکوں کو وہاں سے بھگا دیا۔

مولانا قاسم صاحب نے بتایا کہ ۶ دسمبر کے بعد جب کشیدگی پیدا ہوئی تو فوراًہی گونڈہ کالونی والوں نے باہم مشورے سے امن کمیٹی بنائی۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں کو شریک کیا۔ ۲۱ الرسائل اکتوبر ۱۹۹۳ء

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page