ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲
امن کمیٹی کے فیصلے کے مطابق، کالونی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک ٹیم پہرہ داری کے لئے مقرر کی گئی۔ اس میں کوئی نوجوان نہیں پایا گیا۔ سب ادھیڑ عمر کے لوگ شامل تھے۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں عین فساد کے زمانہ میں بھی گو نڈہ کا لوٹی پوری طرح فساد سے محفوظ رہی۔ حتیٰ کہ وہاں کرفیو لگانے کی نوبت بھی نہیں آئی۔
فساد کے بم سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ دانش مندی کے ذریعہ فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا جائے ۔ فرقہ وارانہ فساد کے نقصان سے بچنے کی اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں۔ اورنگ آباد میں شانتی یاترا کا پروگرام معمول کے مطابق مکمل کرنے کے بعد ہم نے یہاں کے گیسٹ ہاؤس میں رات گزاری۔ مجھے یاد آیا کہ سر جادو نا تھ سرکار نے اپنی تاریخی کتاب (Aurangzgeb) میں لکھا ہے کہ ۱۶۵۸ء میں جب کہ انڈیا میں اور نگ زیب کی حکومت تھی۔ اورنگ آباد میں اجناس کا ریٹ یہ تھا: گیہوں اور دال ایک روپیہ میں ڈھائی من، جوار اور باجرہ ایک روپیہ میں ساڑھے تین من ، گڑ ایک روپیہ میں آٹھ من، گھی ایک روپیہ میں چار سیر (جلد۱، صفحہ ۱۷۳)
یہ ساڑھے تین سو سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت روپیہ مہنگا تھا اور چیزیں سستی تھیں۔ اب چیزیں مہنگی ہیں اور روپیہ سستا ہے۔ عام انسان کے لئے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ یہ کہ قدیم انسان کے لئے مزید یہ تھا کہ اس کو سکون کی نعمت حاصل رہتی تھی۔ جب کہ آج یہ حالت ہے کہ کم والے کو سکون ہے اور نہ زیادہ والے کو۔
جالنہ میں پہر ہاترا کے بعد بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دور تک آدمی ہی آدمی دکھائی دے رہے تھے۔ تقریروں میں شام ہو گئی۔ یہاں شام سے صبح تک کا کرفیو چل رہا ہے۔ لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ سن رہے تھے، تھے۔ مگرکرفیو کے اندیشہ کی وجہ سے آخر میں اٹھنے لگے۔ جالنہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ मंच کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے فوراً اعلان کرایا کہ آپ لوگ کرفیو کا دھیان نہ کریں۔ آخر تک یہاں کے بیانات کو سنیں۔ اور اس کے بعد اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ چنانچہ جلسہ کی کاروائی مزید دیر تک جاری رہی۔
میں نے جالنہ کی تقریر میں کہا کہ یہاں اتنے آدمی ہیں جیسے کہ پوری بستی امنڈ آئی ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues