Al-Risala · October 1993 · page 35

ACPs study Bhiwandi's technique of peace

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵

ہمارے میزبان تھے ۔ نا ندیڑ میں بڑی تعداد میں رسالہ کے قارئین موجود ہیں ، مگر شانتی یا ترہ کا پروگرام بہت کم وقت میں بناا تھا ۔ اس لئے مقامی طور پر اس کی زیادہ پبلسٹی نہ ہوسکی ۔ چنانچہ قارئین رسالہ کی بہت تھوڑی تعداد سے ملاقات ہوسکی ۔

آل انڈیا ریڈیو ناندیڑ کی ٹیم نے ایک انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا موضوع اسلام تھا۔ انٹرویو ر نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے ، اس کے بارے میں آپ ہمارے سننے والوں کو بتائیں۔ میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں ۱۰منٹ تک کچھ بنیادی باتیں بتائیں۔ میں نے خاص طور پر دو آیتوں کی تشریح کی۔ ان مع العسر یسرا ۔ اور و اما ما ينفع الناس فيمكث في الارض۔ اس سفر کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ہندو صاحبان اسلام کے بارہ میں سننا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جب بھی میں نے اسلام کے حوالے کے بغیر عمومی انداز میں کچھ کہنا چاہا تو انھوں نے تقاضا کیا کہ آپ اسلام کے حوالے سے ہمیں بتائیں۔ ہم ایک عالم کی زبان سے یہ سننا چاہتے ہیں کہ اسلام کیا ہے۔

ناندیڑ میں ہمارا رات کا قیام مسٹر پر کاش چند سیٹھی کے نئے تعمیر شدہ گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ وہ ٹرانسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کی کمپنی کا نام سری شانتی روڈویز ہے۔ میری عادت ہے کہ میں ہر آدمی سے اس کے اپنے میدان کی بات کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ سنانے سے زیادہ سننے کا شوق رہتا ہے۔ میں نے مسٹر سیٹھی سے کہا کہ ہم نے اس سفر کے دوران سڑکوں پر چھڑک الٹے ہوئے دیکھے ۔ آخر سڑک کے یہ حادثات کیوں ہوتے ہیں۔ کیا اس کا سبب انجن کی خرابی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ سڑک کا کوئی حادثہ انجن کی خرابی کی وجہ سے ہو۔ وہ تقریباً ہمیشہ ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جو گاڑیاں اس وقت استعمال ہورہی ہیں، ان کے بریک اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ بہت ہی کم اس کا چانس ہوتا ہے کہ وہ فیل ہوجائیں ۔ اصل یہ ہے کہ ڈرائیور کبھی نشہ میں ہوتا ہے۔ کبھی رات کو گاڑی چلاتے ہوئے اس کو جھپکی آجاتی ہے۔ اس بن پر حادثہ پیش آجاتا ہے۔

میں نے سوچا کہ انسانی زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ عام انسانوں کی حیثیت گاڑی جیسی ہے، اور لیڈر کی حیثیت ڈرائیور جیسی۔ سماج میں جو فسادات پیش آتے ہیں وہ حقیقۃ عام انسانوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page