ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹
ایک مسلمان لڑکی سے اس کی شادی بھی ہم نے خود کرائی ہے۔ دونوں خوشی خوشی ہمارے گھر میں رہ رہے ہیں۔
انسان عام طور پر فطرت کی سطح پر جیتے ہیں۔ اور فطرت کی سطح پر ہمیشہ ایک دوسرے کے درمیان اچھے تعلقات ہی ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے لیڈر جھوٹے اشولے کر لوگوں کی سوچ بگاڑ دیتے ہیں اور یہیں سے فساد کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ نااہل لیڈر فطرت کے نظام کو بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس سے قرآن میں ان الفاظ میں منع کیا گیا ہے : لا تفسدوا في الارض بعد اصلاحها۔
آکولہ میں ۶ دسمبر کے بعد کچھ فسادات ہوئے اور جان و مال کا نقصان بھی ہوا۔ مسٹر رویندر سرکار نے بتایا کہ یہاں مسلمانوں کی ایک درگاہ ہے۔ ۶ دسمبر کی صبح کو کچھ ہندوؤں نے درگاہ پر دھاوا کر دیا۔ اور اس کی عمارت کو نقصان پہنچایا۔ مگر اس کے بعد خود ہندوؤں نے اس پر افسوس ظاہر کیا۔ اسی دن شام کو بہت سے ہندو درگاہ پہنچے۔ انھوں نے اس کی مرمت اور تعمیر شروع کر دی۔ وہ لوگ ساری رات کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ۷ دسمبر کی صبح طلوع ہوئی تو درگاہ دوبارہ بن کر تیار ہو چکی تھی۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے کہا کہ درگاہ کی دوبارہ تعمیر حقیقتاً فطرت انسانی کا کارنامہ تھا۔ انسان کی فطرت میں شرمندگی (repentance) کا نہایت گہرا جذبہ ہے۔ انسان غلطی کرنے کے بعد ہمیشہ پچھتاوے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر فریق ثانی دوبارہ غلطی کر کے انسانی فطرت کے عمل کو روک نہ دے تو یہ فطرت ضرور کام کرنے لگی ــــ تخریب کے بعد خود شرمندہ ہو کر دوبارہ تعمیر کے کام میں لگ جائے گی۔
شانتی یاترا کے دوران ۲۰ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہم لوگ امراوتی پہنچے تھے۔ حسب معمول سڑکوں پر پدیاترا کے بعد ہم ایک مقام پر ٹھہرے۔ یہاں ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا تھا۔ اپاریہ منی سوٹیل کمار اور سوامی چیدانند نے اپنی تقریر میں لوگوں سے شانتی قائم رکھنے کی اپیل کی۔ میں کھڑا ہواتو سفر کے دوران نفرت کا ماحول اور فساد کے مناظر دیکھنے کی وجہ سے میری کیفیت عجیب ہو رہی تھی۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہ پڑے۔ تقریر شروع کی تو میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے : شانتی یا ترا کس لئے نکلی ہے۔ یہ شانتی یا ترا اس لئے نکلی ہے کہ جس آگ کو فائر بریگیڈ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues