Al-Risala · October 1993 · page 40

ACPs study Bhiwandi's technique of peace

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰

کا پانی نہ بجھا سکا، اس کو سنت اور فقیر کے آنسوؤں سے بجھا دیا جائے۔ عجیب بات ہے کہ شاتی یا ترا سے واپسی کے بعد ۲۹ دسمبر کا اخبار آیا تو اس میں یہی بات پرائم منسٹر نر سمہاراؤ کے حوالے سے چھپی ہوئی تھی۔ سوامی و یویکانند نے ۱۸۹۳ میں شکاگو کی کانفرنس میں ایک خطبہ دیا تھا۔ اس کے سوسالہ جشن کے طور پر کنیا کماری میں ر اشٹر چیتنا (قومی بیداری) کی تقریب منائی گئی ۔ اس موقع پر پرائم منسٹر نرسمہاراؤ نے شرکت کی۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا :

دیش آج بحران سے دوچار ہے۔ اس بحران کی گھڑی میں ہم کو روحانی اور مذہبی پیشواؤں کی مدد کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ سیاست دانوں کے مقابلہ میں عوام کے جذبات کو زیادہ سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو یہ ملک رہنے کی زیادہ بہتر جگہ ہو جائے گا۔ مجھے اس حقیقی راستہ کی تلاش ہے جس پر آئندہ اس ملک کو چلنا چاہئے ۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۹ دسمبر ۱۹۹۲) کی رپورٹ کے مطابق انھوں کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ ایک ایسے پیاسے مسافر کی طرح ہیں جو پانی کی تلاش میں ہے مگر افسوس کہ پانی کے بجائے میں ایک سراب میں جا پڑا :

He was like a thirsty traveller looking for water. But instead of water, I stepped into a mirage (p. 4). ایک جگہ مجھے معلوم ہوا کہ جلوس پر فساد ہوا۔ کچھ مسلمانوں نے ایک جلوس نکالا۔ دوسرے فرقہ کے لوگوں نے روک ٹوک کی۔ اب دونوں طرف کے لوگ مشتعل ہو گئے۔ اس کے بعد وہ سب کچھ ہوا، جو عام طور پر فرقہ وارانہ فسادات میں ہوتا ہے۔

میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انڈیا میں سب سے بڑی بدعت جلوس ہے۔ موجودہ مزاج کے ساتھ جلوس نکالنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ بالفرض اگر جلوس کو جائز سمجھا جائے تو وہ ان لوگوں کے لئے جائز ہو گا جو یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جمہوریت میں مظاہرہ کا حق ہے اور جلوس در اصل مظاہرہ کے لئے نکالا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بر داشت والے لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام مظاہرہ ہے، اور بے برداشت لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام فساد ۔ اور فساد کسی بھی قانونی نظام میں جائز نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page