Al-Risala · October 1993 · page 42

ACPs study Bhiwandi's technique of peace

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲

خبر میں بتایا گیا تھا کہ آندھرا پردیش کی تروکلا پہاڑیوں میں واقع وینکٹیشور کے مندر میں اس کے عقیدت مندوں کی طرف سے حاصل ہونے والی رقم میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ ۱۹۲۰ء اس مندر میں ایک سال کے اندر۱۰لاکھ روپے وصول ہوئے۔ مئی ۱۹۹۲ میں صرف ایک گم نام عقیدت مند نے ۲۷ لاکھ روپے لاکر مندر کے بکس میں ڈال دئیے۔

زائرین کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ۱۹۹۱ میں صرف ایک دن میں پچاس ہزار آدمیوں نے اگر مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکا۔ یہاں آنے والے زائرین جو بال کٹواتے ہیں وہ خود اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ۹۲-۱۹۹۱ کے درمیان جمع ہونے والے بال کی مقدار دو لاکھ کلو گرام سے زیادہ تھی۔ اور ان کو بیچ کر مندر کے ٹرسٹ کو ۱۸ ملین روپیہ حاصل ہوا۔ ریلوے کی طرف سے ۳ کنکٹنگ ٹرینیں تر و پتی کے لئے چلائی گئی ہیں۔ اور اب مندر میں آنے والوں کا اوسط روزانہ ۴۰ سے ۵۰ ہزار تک ہوتا ہے۔

یہ تمام تر برکتی مذہب کا کرشمہ ہے جو ہر مذہب میں اور ہر مقام پر جاری ہے، اور اسی طرح خود مسلمانوں میں بھی۔ ہر مذہب ہی بھیٹر برکتی مذہب کی بھیڑ ہوتی ہے۔

ہماری پارٹی کے ایک فرد جسٹس چندر شیکھر دھر مادھیکاری (ریٹائرڈ) بھی تھے۔ انھوں نے اپنی ایک تقریر میں یہ واقعہ بتایا کہ آزادی سے پہلے ۱۹۲۰ء کے لگ بھگ زمانہ کا واقعہ ہے۔ لاہور کے ایک جلسہ میں ایک مسلمان بیرسٹر مسٹر عالم تقریر کر رہے تھے ۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ بیرسٹر صاحب ، آپ پہلے مسلمان ہیں یا پہلے ہندوستانی ہیں۔ بیرسٹر صاحب نے جواب دیا کہ میرے بھائی آپ نے سوال صحیح نہیں کیا۔ آپ کو ابھی سوال کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہئے۔ یہ سوال تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ پہلے اپنی ماں کے ہو یا پہلے اپنے باپ کے ہو۔ انھوں نے کہا کہ آدمی بیک وقت اپنے باپ کا بھی ہوتا ہے اور اپنی ماں کا بھی۔ اسی طرح میں بیک وقت مسلمان بھی ہوں اور اسی وقت ہندوستانی بھی۔

جسٹس چندر شیکھر نے یہ تقریر ۲۱ دسمبر کو ناگپور میں اہنسا بھون کے جلسہ میں کی۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ اس سوال کا سب سے زیادہ فطری جواب یہی ہے۔ ہمارے بعض لیڈروں کا یہ کہنا ” میں پہلے مسلمان ہوں اور اس کے بعد ہندوستانی ہوں “ بلا شبہ ایک لغو بات ہے۔ اس کا تعلق نہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page