Al-Risala · October 1993 · page 43

ACPs study Bhiwandi's technique of peace

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۳

اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔

یہ امن کارواں کئی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ایک گاڑی میں اپارٹمنی سوشل کار، سوامی چیدانند اور میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس گاڑی کا ڈرائیور ایک مسلمان تھا۔

منتظمین نے گاڑی کے اندر پھل ، میوے ، چائے وغیرہ کافی مقدار میں رکھ دیا تھا۔ راستہ میں جب بھی کوئی کھانے کی چیز نکالی جاتی تو میں نے دیکھا کہ سوامی چیدانند جی اصرار کے ساتھ مسلمان ڈرائیور کو اس میں شریک کرتے پورے راستہ میں وہ اسی طرح ڈرائیور کے ساتھ بالکل برابر ہی کا سلوک کرتے رہے۔

ایک بار ایسا ہوا کہ ڈرائیور صاحب غلط راستہ پر مڑ گئے۔ کافی آگے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ہم غلط راستے پر آگئے ہیں۔ پھر گھوم کر صحیح سڑک پر آئے۔ اس کی وجہ سے ہم لوگ منزل پر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہو گئے اور پروگرام بھی گڑبڑ ہو گیا۔

اس وقت سوامی چیدانند جی نے نہایت تاکید کے ساتھ ہم لوگوں سے کہا کہ منزل پر پہنچ کر کوئی بھی شخص یہ لفظ منہ سے نہ نکالے کہ ہم لوگ تو صحیح وقت پر روانہ ہوئے تھے مگر ڈرائیور صاحب کی غلطی سے دیر ہوگئی۔ اس کی ذمہ داری ہم لوگ اپنے اوپر لے لیں۔ ڈرائیور پر ہرگز اس کی ذمہ داری نہ ڈالیں۔ چنانچہ یہی کیا گیا اور ڈرائیور صاحب باز پرس سے بچ گئے ۔

۲۱ دسمبر کو واردھا پہنچے۔ واردھا کا لفظ پہلی بار تقسیم ہند سے پہلے اس وقت میرے علم میں آیا جب کہ ظفر علی خاں نے مولانا ابو الکلام آزاد پر طنز کرتے ہوئے یہ شعر لکھا تھا : آئیں ابو الکلام جو واردھا سے گھوم کر تحریک آزادی میں واردھا کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ کیوں کہ یہاں مہاتما گاندھی نے ایک بستی بسائی تھی جو سیوا گرام آشرم کے نام سے مشہور ہوئی۔ مہاتما گاندھی کے بعد ان کے شاگرد دونوں بھائی ایک عرصہ تک یہاں مقیم رہے۔ دیکھنے سے پہلے واردھا کے بارے میں ایک افسانوی تصور میرے ذہن میں تھا۔ مگر جب شانتی یاترا کے ساتھ میں اس کی سڑکوں سے گزرا تو وہ مجھے عام شہروں جیسا ایک شہر نظر آیا۔

یہاں سے ہم لوگ سیوا گرام پہنچے۔ مہاتما گاندھی نے اپریل ۱۹۳۶ میں اس کو وردھا شہر کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page