Al-Risala · October 1993 · page 50

مورتیوں کو ہٹاؤ مسجد وہیں بناؤ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۰

کہا جاتا ہے ۔ اس مشن میں انھیں زہر دست کامیابی حاصل ہوئی۔ اس (Peace Mission)

کامیابی کا راز کیا تھا ، مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا راز اہل شاگر دوں کی جاں نثاری تھا۔ ان کو ایسے لائق شاگرد مل گئے تھے جو اس مشن (devotion of competent disciples)

میں اپنے آپ کو وقف کر دیں۔

ایسے ہی افراد کسی مشن کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مجھے ایسے ساتھی مہیا فرمائے۔ اگرچہ ہماری قوم میں آج سب سے زیادہ جو چیز نایاب ہے وہ بلا شبہ یہی ہے۔ سفر سے واپسی کے بعد ایک صاحب نے پوچھا کہ شانتی یا ترا جیسے کام کی کیا کوئی شرعی بنیاد بھی ہے۔ میں نے کہا کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ اسی قسم کا ایک کام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حلف الفضول کی صورت میں ملتا ہے۔ آپ کی بعثت سے قبل مکہ کے کچھ معزز افراد نے مل کر ایک انجمن بنائی ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سماجی بگاڑ کو روکا جائے ۔ مظلوم کی فریادرسی کی جائے۔ یہ اگر چہ بعثت نبوی سے قبل کا واقعہ ہے ۔ مگر بعثت کے بعد آپ نے یہ فرما کر اس کی تصدیق کر دی کہ اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں اس کو قبول کرلوں گا دلو (دعيت اليه في الاسلام لأجبت)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سماجی انصاف اور مشترک اجتماعی مصالح کے تحفظ کی خاطر کثیر جماعتی تعاون کا طریقہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ ایسے مشترک پروگرام میں شرکت کرنا ایک ایسا دینی تقاضا ہے جس کی اہمیت خود سنت نبوی کے ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page