Al-Risala · November 1993 · page 54

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۴

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۴

ایک آیت

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ اور مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے ، الّا یہ کہ غلطی سے ایسا ہو جائے (النساء ، ۹۲) پھر قاتل کا حکم بتانے کے بعد کہا گیا کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے ، اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے (النساء ، ۹۳) ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں : يقول تعالىٰ ليس لمؤمن ان يقتل اخاه المؤمن بوجه من الوجوه كما ثبت في الصحيحين عن ابن مسعود ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا يحل دم امرئ مسلم يشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله الا بإحدى ثلاث اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مومن کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ اپنے بھائی مومن کو قتل کرے۔ جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مسلم جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اس کا خون جائز نہیں۔ الاّ تین میں سے ایک کا کسی کی جان مارنا شادی شدہ رسول الله إه باكتان النفس بالنفس والثيب الزاني والتارك لدينه المفارق للجماعة۔

ثم اذا وقع شيئ من هذه الثلاث فليس لاحد من آحاد الرعية ان يقتله وانما ذلك الى الامام او نائبه (۵۴۲)

زانی اور وہ شخص جو دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہوجائے (حدیث) پھر جب ان تین میں سے کوئی واقعہ ہو تب بھی عام لوگوں میں سے کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ مجرم کو قتل کردے۔ اس حکم کا نفاذ صرف امام یا اس کے نائب پر ہے۔

واضح ہوکہ یہاں "امام" سے مراد امام خمینی جیسا کوئی مذہبی پیشوا نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد حاکم سلطنت ہے۔ یہ حاکم سلطنت یا اس کے مقرر کردہ بااختیار شخص کا حق ہے ۔ نہ کہ کسی مفتی یا امام یا کسی خود ساختہ مجاہد کا حق ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page