رسول کا طریقہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۵
رسول کا طریقہ
حدیبیہ کے سفر (۶ ھ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریبا دو ہفتہ تک حدیبیہ کے مقام ٹھہرے تھے۔ یہ دو ہفتہ صورت حال کے مطالعہ اور قریش مکہ سے بات چیت میں گزرا۔ اس دوران مکہ کے بہت سے لوگ آپ سے ملنے کے لیے آئے۔ ان میں بدیل بن ورقاء الخزاعی، لیس بن علقمہ ، عروہ بن مسعود ثقفی بھی تھے۔ یہ تینوں اپنے اپنے قبیلہ میں سردار کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ مشرکین میں سے تھے۔ مگر وہ فطری طور پر انصاف پسند تھے۔ انھوں نے مکہ واپس جاکر آپ کے بارہ میں قریش کو اچھی رپورٹ دی۔ انھوں نے رسول اور اصحاب رسول کے خلق بتایا کہ وہ لوگ جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں، بلکہ عمرہ کے لیے آئے ہیں، اس لیے ان کو روکا جائے۔ ایک سردار نے کہا کہ کیا اس آدمی کو بیت اللہ کی زیارت سے روکا جائے گا جو اس کی تعظیم کے لیے آیا ہے (آیصد عن بيت الله من جاء معظما لہ) سیرة ابن هشام ٣٦١/٣ یہ بیانات واضح طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھے۔ مگر آپ نے انھیں مطلق استعمال نہیں کیا۔ قریش کے ساتھ گفتگو میں آپ نے کبھی ان لوگوں کی باتوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کی باتیں خواہ کتنی ہی زیادہ منصفانہ کیوں نہ ہوں، وہ عملی طور پر بے فائدہ تھیں کیونکہ قریش ہرگز ان کو ماننے والے نہ تھے جو اس وقت مکہ کے سرکش سرداروں کے زیر اثر تھے۔ چنانچہ اس قسم کی موافق رپورٹوں اور بیانات کے باوجود آپ نے قریش کے مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان لیا۔ اور وہ امن معاہدہ کر کے مدینہ واپس چلے آئے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔
اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصی سنت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ جب کسی سے نزاع پیدا ہو تو ”منطقی انصاف “ کے بجائے ”عملی حل “ کو اہمیت دینا چاہیے۔ ایسے معاملات میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کس آدمی نے ہمارے موافق بات کہی ہے یا ہمارے نقطہ نظر سے منصفانہ بیان دیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ جن لوگوں کے ساتھ اصلا نزاع برپا ہوئی ہے وہ خود کس طرح نزاع کو ختم کرنے پر راضی ہوں گے، اور پیدا شدہ مسئلہ کا عملی حل
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues