Al-Risala · November 1993 · page 9

دو خبریں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۹

دو خبریں

آپ ۱۶ جون ۱۹۹۳ کا ہندوستان ٹائمز یا ٹائمز آف انڈیا دیکھیں تو آپ کو دو بالکل مختلف قسم کی خبریں پڑھنے کو ملیں گی۔ ایک طرف دونوں میں یہ خبر ہے کہ دہلی کا ایک تاجر کرشن کمار (۴۵ سال) پنجاب نیشنل بنک (کیشو پورم) سے چار لاکھ پینتالیس ہزار روپیہ لے کر واپس آ رہا تھا کہ راستہ میں ۱۲ بجے دن کو چار نوجوان سفید ماروتی کار پر آئے۔ انھوں نے تاجر کے اسکوٹر کو روکا۔ ریوالور سے گولیاں چلا کر اسے گرا دیا اور اس کا بریف کیس لے کر فرار ہو گئے۔

دوسری طرف دونوں ہی اخباروں میں ایک اور خبر ہے۔ دہلی کا ایک ہیڈ کانسٹیبل پریم پال (قرول باغ) رات کو گشت کر رہا تھا۔ اس کو سوریہ کرن ہوٹل کے پاس ایک بریف کیس پڑا ہوا ملا۔ اس نے کھولا تو اس کے اندر دوسرے کاغذات کے علاوہ ۹۷ ہزار ہم سور وپیہ نقد رکھا ہوا تھا۔ اس نے فورا بریف کیس کو بند کیا اور اس کو لا کر اسی طرح تھانہ میں جمع کر دیا۔ تھانہ کے ذمہ دار اب بریف کیس کے اصل مالک کو تلاش کر رہے ہیں۔

یہ ایک علامتی خبر ہے جو بتاتی ہے کہ سماج میں ہمیشہ دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے بھی اور برے بھی۔ اس لیے کسی سماج کے بارہ میں رائے قائم کرتے ہوئے آدمی کو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہیے ۔ اس کو نہ ایک طرف پوری طرح جھک جانا چاہیے اور نہ دوسری طرف۔ مذکورہ خبروں میں اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ وہ صرف کرشن کمار کے واقعہ کو لے لے اور اس کو عام بنا کر یہ کہے کہ ہندوستان کے لوگ تو سب کے سب قاتل اور لٹیرے ہیں۔ تو اس کی یہ رائے درست نہ ہوگی۔ اسی طرح کوئی شخص پریم لال کے واقعہ کو لے اور اس کو عمومی صورت دے کر یہ کہنے لگے کہ ہندوستان کے تمام آدمی انتہائی دیانتدار ہیں تو یہ بات بھی واقعہ کے مطابق نہ ہوگی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر سماج میں دونوں ہی طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس دنیا میں اس طرح رہنا ہے جیسے کہ ہم ایک ایسے راستہ میں چل رہے ہوں جس میں کانٹے بھی ہوں اور اسی کے ساتھ پھول بھی۔ ایسے راستہ کے مسافر کے لیے کامیاب سفر کی تدبیر صرف ایک ہے۔ وہ کانٹوں سے اپنا دامن بچائے ، اور پھولوں سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page