دو منٹ کی بات
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۸
جیسے ہی امام صاحب نے ایسا کیا لیڈر کی گردن انسانیت کے اعتراف میں جھک گئی۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر امام صاحب کو پر نام کیا۔ اس نے کہا کہ امام صاحب، مسلمانوں کے پتھر مجھ کو نہیں جھکا سکے تھے، مگر آپ کے پھولوں نے مجھ کو جھکا دیا۔ اب تک میں آپ کو دشمن کے روپ میں دیکھتا تھا۔ مگر آج سے آپ میرے دوست ہیں۔ اور یہ دوستی اب کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ دونوں میں فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کا پچھلا رویہ لیڈر کے ایگو کو جگانے والا تھا۔ امام صاحب کے موجودہ رویہ نے لیڈر کے کانشنس کو جگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے سال جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کو مارا تھا، وہیں دونوں ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔ کل کے دشمن آج کے بھائی بھائی بن گئے ۔
دونوں واقعہ میں فرق کیا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ بستی کے مسلمانوں نے اس سے پہلے جلوس والوں کی انا کو بھڑ کا دیا تھا ۔ اب انہوں نے جلوس والوں کے ضمیر کو جگا دیا۔ انا نفرت کا سر چشمہ ہے اور ضمیر محبت کا سرچشمہ ۔ انا سے آگ اور دھواں نکلتا ہے اور ضمیر سے خوشبو اور ٹھنڈک ۔ انا انسانیت کو توڑنے والی ہے اور ضمیر انسانیت کو جوڑنے والی ۔
عام طور پر لوگ انسانوں کو اچھے اور برے کے خانے میں بانٹتے ہیں، وہ کچھ افراد کو دوست سمجھ لیتے ہیں اور کچھ اور افراد کو دشمن۔ مگر یہ تقسیم مصنوعی ہے۔ اپنی ابتدائی فطرت کے اعتبار سے تمام انسان صرف انسان ہیں۔ وہ اپنی اصل فطرت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے لیے بے ضرر ہیں۔ ہر انسان اپنے ذاتی مفاد میں اتنا مشغول ہے کہ اس کو دوسرے کے ساتھ دشمنی کرنے کی فرصت نہیں۔
اس کے باوجود دشمنی کیوں پیدا ہوتی ہے۔ دشمنی ایک استثنائی حالت ہے نہ کہ عام اور معتدل حالت۔ دشمنی ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ قول یا عمل سے کسی کے غصہ کو بھڑکایا جائے ۔ اگر آپ آدمی کے اندر سوئے ہوئے غصہ کو نہ بھڑکائیں تو آپ اس کے نقصان سے بھی لازمی طور پر بچے رہیں گے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues