Al-Risala · November 1993 · page 18

نیا طلوع

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸

نیا طلوع

اس دنیا میں کاوئی غروب آخری نہیں ۔ ہر غروب کا بعد ایک نیا طلوع مقدر ہے ۔ بشر طیکہ آدمی اپ۔ شام کو دوبا رہہ صبح میں تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو ـــــ اس دنیا کا سب سے بڑا واقعہ روزانہ سورج کا ڈوبنا اور پھر دوبارہ اس کا نکلنا ہے ۔ یہ سب سے بڑا واقعہ اس سب سے بڑی حقیقت کا مظاہرہ ہے کہ ہر ہار کے بعد دوبارہ جیت ہے ، اور ہر کھو نے کے بعد دوبارہ پانا۔

ہم جس دنیا میں ہیں ، اس کا مالک کوئی انسان نہیں ہے ، بلکہ خدا ہے جو تمام طاقتوں سے زیادہ طاقت رکھنے والا ہے۔ جس وقت کوئی انسان آپ کو محرومیی سے دوچار کرتا ہے ۔ یا جس لمحہ حالات کے کوئی جھونکا آپ کے چراغ کو بجھا دیتا ہے ، عین اسی وقت خدا یہ کہہ رہا ہو تا ہے کہ میری دنیا میں ہر۔ محروم ہونے والے کو دوبارہ دیا جاتا ہے ، اور ہر بجھے ہوئے چراغ کو از سر نو روشن کیا جاتا ہے اس خدائی امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی شرط صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی متاع کو کھونے کے بعد اپنی ہمت کو نہ کھوئے ۔ وہ ہر گرنے کے بعد دوبارہ اٹھے ، وہ محروم کے بعد دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگ جائے ۔

شام کے بعد دوبارہ صبح کو ظہور میں لانے کے لئے کائناتی طاقت درکار ہے۔ پھر جس دنیا میں اتنے بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں یہ نسبتاً بہت چھوٹا واقعہ ظہور میں کیوں نہیں آئے گا کہ ایک آدمی یا ایک قوم ایک بار گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ جائے۔

خدا نے یہ مفت در کر دیا ہے کہ کسی کی شکست اس کے لئے آخری شکست نہ بنے ۔ ایسی حالت میں شکست پر بے ہمت ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی آدمی کو اپنی دوبار فتح پر اتنا ہی یقین ہو نا چاہئے جتنا کوئی شخص شام کے بعد دوبارہ صبح کے وقت سورج کے نکلنے ک یقین رکھتا ہے۔

لوگ عام طور پر " جو کچھ ہو چکا ہے " اس کو جانتے ہیں۔ " جو کچھ ہو سکتا ہے " اس کو نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اگر لوگ اس دوسری بات کو جانیں تو وہ کبھی مایوس نہ ہو کیوں کہ اس دنیا میں مایوسی وقتی ہے اور امید دائمی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page