مستقبل کو دیکھئے
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷
مستقبل کو دیکھئے
جب آدمی کا اگرماضی اور حال لٹ ہو چکا ہو، اس وقت بھی اس کا مستقبل محفوظ رہتا ہے ــــــــ ایک شخص کسی کا ماضی اور حال چھین سکتا ہے، مگر کوئی شخص کسی کا مستقبل چھینے پر قادر نہیں۔
ماضی کی محرومی واقع ہو چکی ، حال کی محرومی واقع ہو رہی ہے ، مگر مستقبل وہ زمانہ ہے جو ابھی آنے والا ہے۔ مستقبل میں وہ تمام مواقع مزید اضافے کے ساتھ موجود ہیں جو ماضی اور حال میں آپ کے لئے ممن تھے۔ اس لئے اگر آپ نے ماضی اور حال کو کھو دیا ہو تو اس کا غم نہ کیجئے ۔ مستقبل کے اعتبار سے از سرِ نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کیجئے ۔ ہو سکتا ہے کہ آئندہ آپ اتنی بڑی کامیابی حاصل کریں جو ماضی و حال کے تمام نقصانات کی تلافی کر دے۔
زندگی کے رازوں میں سے ایک راز یہ ہے کہ آدمی کے اندر بھلا دینے کی طاقت ہو ۔ اگر آپ کا ماضی اور حال برباد ہو گیا ہو تو اس کو بھلا دیجئے ۔ پچھلی بربادی کو بھلانا آپ کے اندر یہ عزم پیدا کرے گا کہ آپ اپنی پوری طاقت کو نئے مستقبل کی تعمیر میں لگا دیں۔ زمانہ اگر ٹھہرا ہوا ہوتا تو آپ کو بھی ٹھہرنا پڑتا۔ اس کے بعد آپ کی محرومی ابدی محرومی بن جاتی۔ مگر زمانہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے، زمانہ حرکت میں ہے۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ ایک موقع کے کھوتے ہی دوسرا موقع سامنے آ جاتا ہے۔ ایک امکان کھونے کے بعد آدمی دوسرا امکان پالیتا ہے جس کو استعمال کر کے وہ آگے بڑھ جائے۔
موجودہ دنیا میں کوئی آدمی نقصان سے بچ نہیں سکتا۔ یہاں بڑے کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور چھوٹے کو بھی۔ یہاں طاقت ور بھی نقصان اٹھاتا ہے اور کمزور بھی۔ اس لئے آپ کبھی نقصان پر دل نہ ہوں۔ ہر بار گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی کوشش کیجئے ۔
زمانہ کا سفر ماضی اور حال پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ مستقبل کی طرف جاری رہتا ہے۔ ماضی اور حال کا سرا آپ سے چھوٹ گیا ہو تو آپ مستقبل کا سرا پکڑ لیجئے۔ آپ دوبارہ کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues