ودیشا کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰
ودیشا کا سفر
۳ جنوری ۱۹۹۳ کا واقعہ ہے۔ میں دہلی میں اپنے دفتر میں تھا کہ دو اجنبی آدمی اندر داخل ہوئے۔ اسی دن سے پہلے میں ان سے بالکل ناواقف تھا۔ وہ بھی اس سے پہلے میرے بارہ میں کچھ نہیں جانتے تھے۔
انھوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر ودیشا کے رہنے والے ہیں۔ سوامی ویویکا نند کے جنم دن ۱۲ جنوری کو ودیشا میں ایک جلسہ کر رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں وہ دہلی آئے تھے۔ انھوں نے اپنا نام ــــــــــــــ وٹیل کار اور پتر و اشیشی (Pitru Ashishi) بتایا۔
ان سے میرے تعارف کا ذریعہ دہلی کے ہندی اخبار جن ستا کا ایک شمارہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ آج کے جن ستامیں ہم نے آپ کا ایک انٹرویو پڑھا۔ اس سے پہلے ہم آپ کے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ مگر اس انٹرویو کو پڑھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ اپنے جلسہ کے لئے ہمیں جس اسپیکر کی تلاش تھی وہ بس آپ ہی ہیں۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری دعوت کو قبول کریں اور ۱۲ جنوری کو و دیشا آکرہمیں مارگ درشن کرائیں۔ آپ ہی اس میں مین اسپیکر ہوں گے۔ یہ میرے لئے ایک مشکل مسئلہ تھا۔ اس وقت مدھیہ پردیش سے فرقہ وارانہ فساد کی خبریں آرہی تھیں۔ مذکورہ حضرات سے براہ راست کوئی واقفیت نہ تھی۔ ودیشا کا بھی میں نے صرف نام سنا تھا۔ تاہم مذکورہ صاحبان کے مخلصانہ اصرار پر میں نے ان کی دعوت منظور کر لی۔ ۱۱ جنوری ۱۹۹۳ کی شام کو بذریعہ مالوہ ایکسپریس دہلی سے ودیشا کے لئے روانگی ہوئی۔ ریلوے اسٹیشن پہنچا تو حسب معمول انسانوں کی بھیڑ ادھر سے اُدھر دوڑتی ہوئی نظر آرہی تھی میں نے سوچا کہ آج کا انسان اپنی معاشی دوڑ میں اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اس کو کسی اور بات کے بارہ میں غور کرنے کی فرصت نہیں۔ اس پر ٹھہراؤ کا لمحہ صرف اس وقت آتا ہے جب کہ وہ موت سے دوچار ہوتا ہے۔ مگر جب موت کی گھڑی آجائے تو کہنے کا وقت بھی ختم ہو جاتا ہے اور سننے کا وقت بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues